Urdu book · مطالعۂ سیرت

بصیرت کی ضرورت

Urdu book, p. 24

By Maulana Wahiduddin Khan

آخر میں آپ کے مخالفین آپ کے مکان کو تلوار لے کر گھیر لیتے ہیں اس وقت آپ خاموشی سے ہجرت کر کے مدینہ چلے جاتے ہیں۔ دوسری طرف ہم دیکھتے ہیں کہ یہی مخالفین احد کے موقع پر جب تلوار لے کر آتے ہیں تو آپ اپنے ساتھیوں کے ساتھ ان کا مقابلہ کرتے ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت میں اس طرح کے مختلف نمونے ہیں۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ رسول کے نمونے کو اپنانے کے لیے اس حکمت کو جاننا ضروری ہے کہ کون سا نمونہ کس موقع کے لیے ہے۔ اگر آدمی کے اندر یہ بصیرت نہ ہو تو بظاہر وہ سنت رسول پر عمل کرنے کا دعویٰ کرے گا۔ مگر حقیقتہ وہ سنت رسول سے آخری حد تک دور ہوگا۔ جو شخص سنت کو سمجھنے کی بصیرت سے محروم ہو اس کا حال یہ ہو گا کہ جس موقع پر صبر کی سنت درکار ہوگی وہاں وہ قتال کی آیت کا حوالہ دے گا۔ جن حالات میں دعوت کی سنت مطلوب ہوگی وہاں وہ جہاد کی سنت پر تقریر کرے گا۔ جہاں صلح کی سنت پر عمل کرنا چاہیے وہاں وہ جنگ کی سنت پر عمل کرنے کا نعرہ لگائے گا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت میں بلاشبہ بہترین نمونہ ہے۔ مگر یہ نمونہ انہیں لوگوں کے لیے نمونہ بنے گا جو اس معاملہ میں آخری حد تک سنجیدہ ہوں ۔ جن میں یہ مزاج نہ ہو کہ وہ اپنی خواہش کے لیے سنت رسول میں نمونہ تلاش کریں۔ بلکہ سنت رسول کے نمونہ پر اپنی خواہش کو ڈھالیں۔ جو اپنے آپ کو سنت رسول کے سامنے جھکانے کا مزاج رکھتے ہوں جو دل کی پوری آمادگی کے ساتھ رسول کو اپنی زندگی کا رہنما بنا لیں۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page