حدیبیہ منہاج
Urdu book, p. 24
By Maulana Wahiduddin Khan
حدیبیہ منہاج ڈاکٹر مائیکل ہارٹ کی مشہور کتاب (The 100) کا تعارف غالباً مسلم دنیا میں سب سے پہلے الرسالہ (اکتوبر ۱۹۷۸ء) میں چھپا۔ اس میں امریکی مصنف نے تاریخ کے ایک انتہائی ممتاز آدمیوں کا انتخاب کیا ہے۔ اور ان پر مضامین لکھے ہیں۔ اس سلسلہ میں مصنف نے اپنی فہرست میں نمبر ایک پر محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو رکھاہے ۔ انھوں نے لکھا ہے کہ محمد تاریخ کے سب سے زیادہ کامیاب انسان (supremely successful man) تھے ۔ الرسالہ میں اس مضمون کی اشاعت کے بعد ہمارے پاس کثرت سے مسلمانوں کے خطوط آئے۔ ہر خط میں یہ پوچھا گیا تھا کہ مذکورہ کتاب کو حاصل کرنے کا پتہ کیا ہے۔ بہت سے لوگوں نے اس کے اردو ترجمہ کی بابت دریافت کیا۔ تاہم لوگوں کی تحریروں سے اندازہ ہوا کہ ہر مکتوب نگار کو صرف سپریلی سکس فل انسان سے دلچسپی تھی ، ان میں سے کسی کو بھی اس سے دلچسپی نہ تھی کہ وہ اس سپریمی سکس فل انسان کی سپریم سکر کار از معلوم کرنے کی کوشش کرے ۔ یہ موجودہ زمانہ کے مسلمانوں کا عام مزاج ہے۔ اور اس مزاج کا سبب ہیرو ور شپ کی نفسیات ہے۔ موجودہ مسلمانوں نے رسول اور اصحاب رسول کو اپنا ہیرو بنا لیا ہے نہ کہ اپنا عملی نمونہ۔ یہ دراصل ان قوموں کی نفسیات ہے جو خود کوئی کارنامہ انجام نہ دے سکیں۔ ایسے لوگ اپنی تاریخی شخصیتوں کے پر عظمت تذکرہ کو اپنے لئے تسکین کا سامان بنا لیتے ہیں۔ کسی نے نہایت صحیح کہا ہے کہ تاریخ ان لوگوں کی پناہ گاہ ہے جنھوں نے خود کچھ زیادہ نہ کیا ہو جس کی وہ تقریب منائیں : History is often the refuge of those who have not done much themselves to celebrate. امت مسلمہ جب زندہ حالت میں ہو تو اس کا پیغمبر اس کے لئے نمونہ عمل ہوتا ہے۔ اور امت مسلمہ کے لوگ جب زندہ حالت پر باقی نہ رہیں تو وہ اپنے پیغمبر کو اپنے لئے فخر کا نشان بنا لیتے ہیں۔ موجودہ زمانہ کے مسلمان اسی دوسری حالت میں مبتلا ہیں۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader