Urdu book · مطالعۂ سیرت

حدیبیہ منہاج

Urdu book, p. 25

By Maulana Wahiduddin Khan

موجودہ مسلمانوں نے پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے لئے فخر کا نشان بنا لیا ہے۔ اور فخر کے جذبہ کی تسکین اسی طرح ہوتی ہے کہ آپ کو سپریم میل سکس فل کہا جائے ۔ قرآن میں پیغمبر اسلام کو اسوہ کے طور پر پیش کیا گیا ہے نہ کہ فخر کے طور پر ۔ قرآن میں ارشاد ہوا ہے کہ لقد كان لكم في رسول الله أسوة حسنة (الاحزاب (۲۱) مگر موجودہ مسلمانوں نے اپنی تشریح میں اس کو بدل کر لقد كان لكم في رسول الله مفخرة حسنة بنا دیا ہے۔ قرآن کی تعلیم کے مطابق ، ہمارے لئے سب سے زیادہ اہم بات یہ ہے کہ ہم یہ معلوم کریں کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی سپریم سکس کارانہ کیا تھا۔ کیوں کہ اس راز کو جان کر ہی ہم دوبارہ اسلام کو اعلیٰ کامیابی کے مقام پر پہنچا سکتے ہیں۔ اس سوال کو لے کر جب ہم قرآن میں غور کرتے ہیں تو سب سے پہلے ہمارے سامنے قرآن کی وہ سورہ آتی ہے جس کا نام الفتح ہے۔ اس سورہ میں اس واقعہ کا ذکر ان الفاظ میں کیا گیا ہے کہ ہم نے تم کو کھلی فتح دیدی ( انا فتحنا لك فتحا مبینا ) ڈاکٹر مائیکل ہارٹ نے جس چیز کو سپریم سکس بتایا ہے، اس کو قرآن میں فتح مبین کہا گیا ہے۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فتح مبین یا سپریم سکس کس طرح حاصل ہوئی ۔ قرآن کی مذکورہ آیت بتاتی ہے کہ آپ کو یہ غیر معمولی فتح صلح حدیبیہ کے ذریعہ اور اس کے بعد حاصل ہوئی۔ قرآن کی مذکورہ آیت صلح حدیبیہ ہی کے بارہ میں اتری تھی۔ اس لئے یہاں بطریق نص یہ ثابت ہو جاتا ہے کہ اس فتح کاراز وہ مخصوص طریقہ تھا جس کا استعمال حدیبیہ کے واقعہ میں کیا گیا۔ اس کو ہم حدیبیہ منہاج کہہ سکتے ہیں۔ حدیبیہ سے بظاہر ہر آپ اپنے مقصد کو حاصل کئے بغیر واپس آئے تھے۔ چنانچہ حدیبیہ سے مدینہ واپس جاتے ہوئے راستہ میں جب سورہ فتح نازل ہوئی تو ایک شخص نے کہا کہ یہ تو کوئی فتح نہیں۔ انھوں نے ہم کو بیت اللہ میں داخلہ سے روک دیا۔ آپ نے فرمایا۔ بلکہ وہ تمام فتحوں میں سب سے بڑی فتح ہے (قال رجل عند مُنْصَرَ فِهِم . ما هٰذا بفتح ۔ لقد صددنا عن البيت - فقال النبی صلی الله عليه وسلم : بل هو اعظم الفتوح ) الجامع لاحكام القرآن ۲۶۰/۱۶

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page