حدیبیہ منہاج
Urdu book, PDF p. 26
By Maulana Wahiduddin Khan
جان کی قربانی اتنی آسان ہے کہ ساری معلوم تاریخ میں بے شمار لوگ مسلسل جان کی قربانی دیتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ لیکن وقار کی قربانی اتنی زیادہ مشکل ہے کہ معلوم تاریخ میں چند اللہ کے بندوں کے سوا کوئی بھی دکھائی نہیں دیتا، جو واقعی رضامندی کے ساتھ وقار کی قربانی دینے پر آمادہ ہو جائے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ جان کی قربانی میں آدمی ہیرو بن رہا ہوتا ہے جب کہ وقار کی قربانی میں وہ اچانک زیر و بن جاتا ہے۔ جان کی قربانی میں وہ اپنے آپ کو فتح کی طرف جاتا ہوا دیکھتا ہے اور روفتار کی قربانی میں وہ محسوس کرتا ہے کہ میں نے خود اپنے فیصلے سے شکست کو قبول کر لیا۔ جان کی قربانی بظاہر ایک عزت کا عمل ہے اور روفتار کی قربانی اس کے برعکس بے عزتی کا عمل۔ جان کی قربانی میں آگے بڑھنا ہوتا ہے اور روفتار کی قربانی میں پیچھے ہٹ جانا۔ جان کی قربانی میں اقدام کا سہرا بندھتا ہے اور روفتار کی قربانی میں پسپائی کا الزام سہنا پڑتا ہے ــــ یہی وجہ ہے کہ جان کی قربانی چھوٹی قربانی ہے اور روفتار کی قربانی زیادہ بڑی قربانی۔ یہ ایک معلوم بات ہے کہ جتنی بڑی قربانی اتنی ہی بڑی کامیابی۔ سب سے بڑی کامیابی کسی کو صرف اس وقت ملتی ہے جب کہ وہ سب سے بڑی قربانی دینے کے لئے تیار ہو۔ رسول اور اصحاب رسول نے چوں کہ حدیبیہ کے موقع پر سب سے بڑی قربانی دی اسی لئے وہ اس دنیا میں سب سے بڑی کامیابی کے مستحق قرار پائے۔ حدیبیہ منہاج میں وہ کون سی خصوصی طاقت ہے جس کی بنا پر وہ فتح مبین کا دروازہ کھول دیتا ہے۔ اس کا سراغ اس واقعہ میں ملتا ہے کہ ذوالقعدہ ٦ھ میں جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ سے مکہ کا سفر فرمایا، اس وقت آپ کے ساتھ جو مردان کار تھے، ان کی تعداد ڈیڑھ ہزار سے بھی کم تھی۔ مگر اس کے دو سال سے بھی کم عرصہ بعد رمضان ۸ھ میں جب آپ نے دوبارہ مکہ کی طرف مارچ کیا تو آپ کے ساتھ مردان کار کی تعداد دس ہزار ہو چکی تھی۔ پہلے سفر میں اہل مکہ نے آپ کو حدیبیہ کے مقام سے لوٹنے پر مجبور کر دیا تھا۔ دوسرے سفر میں آپ کے عظیم قافلہ کو دیکھ کر وہ اتنا مرعوب ہوئے کہ مقابلہ کے بغیر انھوں نے شکست قبول کر لی۔ اس سے معلوم ہوا کہ حد بیبیہ منہاج انسانی تسخیر کا منہاج ہے۔ حدیبیہ منہاج میں انسانوں

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader