حدیبیہ منہاج
Urdu book, p. 24
By Maulana Wahiduddin Khan
یہ ثابت کرنے کے لئے کافی ہے کہ شافی الذکر قربانی اول الذکر قربانی سے زیادہ عظیم ہے۔ مسلم نے ابو ہریرہؓ کے واسطے سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھے پسند ہے کہ ہم اپنے اخوان (بھائیوں) کو دیکھیں۔ صحابہ نے کہا کہ کیا ہم آپ کے اخوان نہیں ہیں اے خدا کے رسول۔ آپ نے فرمایا کہ تم لوگ میرے اصحاب ہو۔ ہمارے اخوان وہ لوگ ہیں جو ابھی نہیں آئے، وہ ددث آ نا ق در رأينا اخواننا۔ قالوا أولسنا اخو انك يا رسول الله۔ قال انتم اصحابی و اخو اننا الذین لم يأتو ابعد، الدارمی نے روایت کیا ہے کہ ابو عبیدہ بن الجراح نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ اے خدا کے رسول ، کیا امت میں کوئی ہم سے بہتر ہے۔ ہم آپ پر ایمان لائے۔ اور آپ کے ساتھ جہاد کیا۔ آپ نے فرمایا کہ ہاں۔ وہ لوگ جو میرے اوپر ایمان رکھیں اور انہوں نے مجھ کو دیکھا نہ ہوگا (قلت يا رسول الله احد خير منا۔ آمنا بك وجاهدنا معك۔ قال نعم قوم يؤمنون بي ولم يَرَوْنى، جامع الاصول فی احادیث الرسول ۲۰۶/۹ - ۲۰۷ اس حدیث میں لَمْ یَرَوْنی محض لفظی معنوں میں نہیں ہو سکتا۔ کیوں کہ ایک ایسا پیغمبر جو بعد کے زمانہ میں تاریخ کی سب سے بڑی شخصیت بننے والا ہو، جس کی عظمت مسلمہ عظمت کا درجہ حاصل کرنے والی ہو، اس کو ماننا کوئی امتیازی خصوصیت کی بات نہیں ہوسکتی ۔ اس لئے ضروری ہے کہ اس کو کسی معنوی مفہوم میں لیا جائے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جس پیغمبر کی منشاء کو دور اول کے اصحاب رسول نے براہ راست طور پر پیغمبر کو دیکھ کر اور اس سے سن کر مانا تھا، اس پیغمبر کی منشاء کو بعد کے اخوان رسول دیکھے اور سنے بغیر ذاتی دریافت کے ذریعہ معلوم کریں گے۔ اس معاملہ کی وضاحت ایک مثال سے بخوبی ہوتی ہے۔ اصحاب رسول کے سامنے بدر اور احد کا محاذ آیا۔ یہ محاذ جان کی قربانی کا طالب تھا اصحاب رسول نے بلاتامل یہ قربانی پیش کر دی۔ پیغمبر کا اشارہ پاتے ہی وہ بدر و احد کے میدان جہاد میں کود پڑے ۔ پھر کسی کو اللہ نے شہادت دی ، اور کوئی اس سے غازی بن کر واپس آیا۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader