حدیبیہ منہاج
Urdu book, p. 42
By Maulana Wahiduddin Khan
انھیں اصحاب رسول کے سامنے دوسرا محاذ وہ آیا جس کو ارباب سیر "غزوہ حدیبیہ" کہتے ہیں۔ یہ دوسرا محاذ بھی قربانی کا محاذ تھا۔ البتہ ظاہری طور پر دونوں میں فرق تھا۔ اس دوسرے محاذ پر صرف ایک ابو بکر صدیق کو چھوڑ کر تمام کے تمام صحابہ تشویش میں مبتلا ہو گئے ۔ وہی لوگ جنھوں نے پہلے محاذ پر یقین کا مظاہرہ کیا تھا، اس دوسرے محاذ پر شدید تردّد میں پڑگئے ۔ یہاں تک کہ پیغمبر کے ذاتی اور شخصی زور پر انھوں نے اس کو قبول کیا۔ آج یہی تاریخ دوبارہ مسلمانوں کی طرف لوٹ آئی ہے۔ آج ایک طرف ساری دنیا میں ایسی روحیں موجود ہیں جو بظاہر غیر مسلم ماحول میں ہیں۔ مگر ان کی فطرت دین حق کو قبول کرنے کے لئے پوری طرح تیار ہے۔ لیکن موجودہ زمانہ میں مسلمانوں اور غیر مسلم قوموں کے درمیان ساری دنیا میں نزاع اور ٹکراؤ جاری ہے۔ اس نزاع اور ٹکراؤ نے اس معتدل فضا کا خاتمہ کر دیا ہے جس میں مذکورہ قسم کے غیر مسلم کھلے ذہن کے ساتھ اسلام کو دیکھیں اور اس کو قبول کر لیں۔ اب آج مسلمانوں کو دوبارہ وہی قربانی دینا ہے جو صلح حدیبیہ کے وقت اصحاب رسول نے دی تھی۔ ان کو ذاتی شکایتوں کو بھلا دینا پڑا تھا۔ آج بھی حالات کا تقاضا ہے کہ مسلمان اپنی ذاتی اور قومی شکایتوں کو بھلا دیں تاکہ داعی اور مدعو کے درمیان معتدل تعلقات قائم ہو سکیں ۔ صحابہ کرام نے رسول اللہ کو دیکھ کر اور آپ کی براہ راست ذاتی ہدایت پر صبر کی قربانی دی تھی۔ آج مسلمانوں کو رسول اللہ کو دیکھے بغیر صرف آپ کی سیرت کو سامنے رکھتے ہوئے یہی صبر والی قربانی دینا ہے۔ آج کے مسلمان اگر یہ قربانی دے سکیں تو وہ مذکورہ حدیث کے مطابق اخوان رسول قرار پائیں گے، اور بلاشبہ کسی مسلمان کے لئے اس سے بڑی سعادت نہیں ہوسکتی کہ قیامت کے دن اس کا استقبال اخوان رسول کی حیثیت سے کیا جائے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader