صبر کی اہمیت
Urdu book, p. 38
By Maulana Wahiduddin Khan
صبر کی اہمیت اور افضلیت کےبارہ میں اس قسم کے بہت سے اقوال رسول حدیث کی کتابوں میں آئے ہیں۔ مثال کے طور پر مسند احمد میں روایت ہے کہ آپ نے فرمایا کہ میں تمہارے لیے صبر سے زیادہ کشادہ رزق اور کوئی نہیں پاتا (وما احدکم رزقاً اوسع من الصبر) ان حدیثوں میں صبر کو رزق اور عطیہ کہا گیا ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ صبر کوئی سلبی چیز نہیں ہے بلکہ وہ ایجابی چیز ہے۔ صبر محرومی نہیں ہے بلکہ یافت ہے۔ صبر بے عملی نہیں ہے بلکہ وہ سب سے بڑا عمل ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ صبر پیغمبرانہ عمل (prophetic activism) یا اسلامی عمل (Islamic activism) کی اصل بنیاد ہے۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کا بتایا ہوا طریق کار تمام تر صبر کے اصول پر مبنی ہے۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کو جو قرآن دیا گیا وہ پورا کا پورا کتاب صبر ہے۔ جن آیتوں میں صبر کی براہ راست تعلیم دی گئی ہے، ان کا صبر کی آیت ہونا واضح ہے لیکن غور کیجیے تو بقیہ قرآنی آیتیں بھی بالواسطہ طور پر صبر ہی کی آیتیں ہیں۔ مثلاً اقرأ باسم ربک الذی عین صبر کی آیت ہے۔ کیوں کہ ماحول کی اشتعال انگیزیوں پر صبر کے بغیر افتداً کا عمل نہیں کیا جاسکتا۔ الحمد للہ رب العالمین میں صبر کا لفظ نہیں مگر وہ عین صبر کی آیت ہے۔ کیوں کہ نقصان اور محرومی پر جب تک صبر نہ کیا جائے حقیقی کلمہ حمد آدمی کی زبان سے نہیں نکل سکتا۔ قولالہ قولا لینا (طہ (۴۴) صبر کی آیت ہے۔ کیوں کہ سرکش مخاطب کی دل آزار باتوں کو جب تک برداشتی نہ کیا جائے اس سے نرم انداز میں گفت گو نہیں کی جاسکتی۔ وغیرہ وغیرہ۔ اس دنیا میں کامیابی کا واحد راز یہ ہے کہ ممکن سے اپنے عمل کا آغاز کیا جائے ، اور ناکامی کا واحد سب سے بڑا سبب یہ ہے کہ اپنی قوت اور طاقت کو نا ممکن کے حصول میں لگا دیا جائے۔ اس کو دوسرے لفظوں میں اس طرح کہا جاسکتا ہے کہ متشددانہ طریق کار آدمی کو تباہی کی طرف لے جاتا ہے اور پر امن طریق کار کامیابی کی طرف۔ متشددانہ طریق کار ہمیشہ بے صبری کا نتیجہ ہوتا ہے۔ اس کے مقابلہ میں پرامن طریق کار وہ لوگ اختیار کرتے ہیں جو نزاعی معاملات میں صبر و تحمل کا ثبوت نہ دے سکیں۔ امن کی طاقت اس دنیا میں سب سے بڑی طاقت ہے، اور صبر آدمی کو اس قابل بناتا ہے کہ وہ امن کی طاقت کو کامیاب طور پر استعمال کرسکے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader