Urdu book · مطالعۂ سیرت

مطالعۂ سیرت

Urdu book, p. 36

By Maulana Wahiduddin Khan

اگر وہ جنگ کے لئے ہوتی تو نا ممکن تھا کہ اس کے بعد آپ اپنے دشمن سے یکطرفہ شرطوں پر صلح کر لیں۔ حضرت عثمان بن عفان جب مکہ گئے تو وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سفیر کی حیثیت سے وہاں گئے تھے۔ بین الاقوامی رواج کے مطابق، سفیر کا قتل اعلان جنگ کے ہم معنی ہوتا ہے۔ جب یہ خبر ملی کہ قریش نے آپ کے سفیر کو قتل کر دیا ہے تو قدرت درستی طور پر آپ نے اس کا مطلب یہ سمجھا کہ قریش اب آخری طور پر آمادہ جنگ ہو چکے ہیں، وہ کسی حال میں صلح اور امن کا معاملہ کرنے پر راضی نہیں ہیں۔ اس خبر نے وقتی طور پر صورتِ حال کو یکسر بدل دیا۔ ابتدائی صورتِ حال، کے مطابق، آپ کے سامنے صلح یا جنگ میں انتخاب (چوائس) کا مسئلہ تھا۔ اس وقت آپ نے جنگ کو چھوڑ کر صلح کا انتخاب فرمایا یا تھا۔ مگر قتلِ سفیر کی خبر نے ظاہر کیا کہ اب فرار یا جنگ میں سے کسی ایک صورت کے انتخاب (چوائس) کا مسئلہ درپیش ہے۔ یعنی قریش کسی حال میں بھی صلح پر راضی نہیں ہیں۔ وہ ہر حال میں جنگ کرنا چاہتے ہیں۔ اس وقت آپ نے اپنے اصحاب سے عدمِ فرار اور بصورتِ جارحیت دفاع کی بیعت لی۔ مگر جب معلوم ہوا کہ یہ خبر غلط تھی تو پھر دوبارہ آپ جنگ کو چھوڑ کر صلح پر راضی ہو گئے۔ حالاں کہ یہ صلح آپ کو دشمن کی یکطرفہ شرطوں پر کرنی پڑی۔ بیعتِ رضوان کا پیغام یہ ہے کہ تمہارے لئے اگر انتخاب (چوائس) فرار اور جنگ کے کے درمیان ہو تو فرار کو چھوڑ کر جنگ کا طریقہ اختیار کرو۔ اور اگر تمہارے لئے انتخاب (choice) صلح اور جنگ کے درمیان ہو تو جنگ کو چھوڑ کر صلح کا طریقہ اختیار کرو، خواہ یہ صلح فریقِ ثانی کی یکطرفہ شرائط پر ہی کیوں نہ ہو۔ مزید یہ کہ فرار کے مقابلہ میں عدمِ فرار کو اختیار کرنے کا حکم بھی مشروط حکم ہے نہ کہ مطلق حکم۔ کیوں کہ حدیبیہ (۶ھ) میں آپ نے فرار کے مقابلہ میں عدمِ فرار کا فیصلہ فرمایا۔ مگر اس سے پہلے مکہ (۱ھ) میں اسی طرح کی صورتِ حال میں آپ نے وہاں سے ہجرت فرمائی۔ صبر کی اہمیت حدیبیہ دراصل عدمِ تکبراؤ کی پالیسی کا دوسرا نام ہے۔ اسی پالیسی کا نام صبر ہے۔ اسلام میں صبر کی بے حد اہمیت ہے۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کسی شخص کو صبر سے زیادہ بہتر اور کشادہ عطیہ نہیں دیا گیا (وما أعطی أحد عطاء خير أو اوسع من الصبر) فتح الباری بشرح صحیح البخاری ۲۹۳۳

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page