تکمیل دین
Urdu book, p. 30
By Maulana Wahiduddin Khan
اس آیت میں دین کامل سے مراد دین مستحکم ہے (لسان العرب ۵۹۸/۱۱، تفسیر النسفی ۲۷۰/۱) پچھلے زمانوں میں دین میں بار بار تحریف و تبدیلی ہوتی رہتی تھی۔ مخالف طاقتیں پیغمبروں کے دین کو تاریخ تک سے مٹانے میں کامیاب ہو جاتی تھیں۔ پیغمبر آخر الزماں اور آپ کے اصحاب کے ذریعہ عالم انسانی میں ایسا انقلاب لایا گیا کہ دینی عدم استحکام کا مسئلہ ہمیشہ کے لیے ختم ہو گیا۔ ضحاک کے قول کے مطابق ، قرآن کی یہ آیت فتح مکہ کے بعد ۵ھ میں نازل ہوئی۔ یعنی ہجری کیلنڈر کے اعتبار سے چودہ سو سال پہلے۔ اُس وقت کے حالات میں اس آیت کی حیثیت مستقبل کے بارہ میں ایک جرات مندانہ پیشین گوئی کی تھی۔ اس میں پیشگی طور پر یہ اعلان کیا گیا کہ اب تاریخ ایک نئے دور میں داخل ہو گئی ہے۔ اب خدا کے دین کے لیے خشیت انسانی کا مسئلہ ہمیشہ کے لیے ختم ہو گیا۔ اب خدا کا دین اتنا مستحکم ہو چکا ہے کہ مخالف طاقتیں آئندہ کبھی بھی اس کو زیر کرنے میں کامیاب نہ ہو سکیں گی۔ موجودہ دنیا امتحان کی دنیا ہے۔ یہاں تمام کام اسباب عادی کے تحت انجام پذیر ہوتے ہیں۔ اس صورت حال کو شامل کر کے مذکورہ آیت کی تفسیر کیجئے تو معلوم ہوگا کہ اس اعلان کا مطلب یہ تھا کہ آنے والے زمانوں میں تاریخ کا سفر صرف اس سمت میں ہوگا جو دین خداوندی کے موافق ہو۔ آئندہ پیش آنے والے واقعات وہی رخ اختیار کریں گے جو دینِ خدا کا اثبات کرنے والے ہوں نہ کہ اس کی تردید کرنے والے ۔ یہ پیشین گوئی تمام زمانوں میں مکمل طور پر پوری ہوئی ہے۔ اس طرح خالص علمی اور تاریخی سطح پر یہ ثابت ہوا ہے کہ قرآن خدا کی طرف سے اتارا ہوا کلام ہے۔ کیوں کہ خدا وند عالم کے سوا کوئی بھی تاریخ کے بارہ میں ایسے فیصلے کن اعلان پر قادر نہیں اور نہ کبھی کسی نے اس قسم کا فیصلہ کن اعلان تاریخ کے بارہ میں کیا۔ اس مختصر صحبت میں میں تاریخ کے تین بڑے واقعات کا ذکر کروں گا۔ یہ واقعات وہ ہیں جو بظاہر مخالف دین انقلاب کی حیثیت سے ظاہر ہوئے ، مگر باعتبار نتیجہ وہ حامی دین انقلاب بن گئے۔ یہ تین انقلابات ہیں آزادی ، سائنس ، اور سیکولرزم۔ ا۔ موجودہ زمانہ آزادی کا زمانہ ہے۔ جب کہ پچھلے تمام زمانے اظہارِ خیال پر پابندی کے زمانے رہے ہیں۔ ہر انسانی گروہ میں ، خواہ وہ بڑے ہوں یا چھوٹے ، دنیا کے ہر حصے میں اور تاریخ کے ہر مرحلے میں ، کسی نہ کسی شکل میں زبان و قلم پر احتساب قائم رہا ہے :

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader