تکمیل دین
Urdu book, p. 41
By Maulana Wahiduddin Khan
آزادی اظہار پر اسی عمومی پابندی کا یہ نتیجہ تھا کہ مذاہب کی مقدس کتابیں کبھی کھلی تنقید کا موضوع نہ سکیں ۔ تنقیدی جائزہ کی اس ممانعت کی بنا پر ایسا ہوا کہ ایک نہ سہی کتاب اور دوسری مذہبی کتاب کا فرق بھی خالص علمی بنیاد پر واضح ہو کر سامنے نہیں آیا۔ مذہبی کتابوں کی حیثیت متعین کرنے کا معلوم ذریعہ صرف ایک تھا، اور وہ ان کتابوں کو ماننے والوں کا اپنا عقیدہ تھا۔ ہرگز وہ اپنی مقدس کتاب کو یکساں درجہ میں آسمانی کتاب بنا رہاتھا، اس بنا پر لوگوں نے بھی ہر کتاب کو یکساں درجہ میں آسمانی کتاب فرض کر لیا تھا۔ حالانکہ اصل حقیقت یہ تھی کہ قرآن محفوظ آسمانی کتاب تھی اور دوسری تمام کتابیں غیر محفوظ آسمانی کتاب، قرآن پوری طرح غیر محرف تھا، جبکہ دوسری تمام مذہبی کتابیں میں تحریف کا شکار ہو چکی تھیں۔ موجودہ زمانہ میں جب کھلی آزادی کا دور آیا تو ہر چیز نکی بے روک ٹوک جانچ ہونے لگی۔ حتیٰ کہ مقدس مذہبی کتابیں بھی اس کی زد میں آگئیں۔ یہ عمل پچھلے تقریباً تین سو سال سے اہل علم کے درمیان جاری ہے۔ حتیٰ کہ یہ ایک مستقل فن بن گیا ہے جس کو ہائر کریٹیسزم ، ہسٹاریکل کریٹیسزم ، تنقید تن (textual criticism) وغیرہ کہا جاتا ہے۔ اس آزادانہ جانچ کا یہ عظیم فائدہ ہوا کہ قرآن اور دوسری مقدس کتابوں کا فرق خالص علمی اور تاریخی اعتبار سے ثابت ہو کر سامنے آگیا۔ ان ناقدین نے جس طرح دوسری مقدس کتابوں کی جانچ کی ۔ اسی طرح انہوں نے قرآن کی بھی بے رحمانہ جانچ کی۔ مگر آخر کار جو بات ثابت ہوئی وہ یہ تھی کہ قرآن ایک محفوظ کتاب ہے اور اس کے مقابلہ میں ہر ایک غیر محفوظ کتاب۔ قرآن غیر محرف ہے اور دوسری کتابیں محرف۔ قرآن ایک معتبر تاریخی کتاب ہے، جبکہ دوسری کتابوں کو تاریخی اعتبار یت حاصل نہیں۔ مثال کے طور پر دور جدید کے علماء نے قرآن کے مختلف نسخے مختلف ملکوں سے حاصل کیے۔ انھوں نے مختلف زمانوں کے قرآنی نسخے ہاتھ سے لکھے ہوئے یا مطبوعہ قسم کے اکٹھا کیے۔ ان تمام جمع شدہ قرآنی نسخوں کا ایک دوسرے سے تقابل کیا گیا۔ مگر قرآن کے ہزاروں نسخوں میں ایک اور دوسرے کے درمیان کوئی ادنی فرق بھی دریافت نہ ہو سکا۔ بعض آیتوں کے بعض الفاظ میں قرأت (لہجہ) کا فرق ضرور تھا۔ مگر جہاں تک مصحف میں کتابت کا سوال ہے، کتابت میں کوئی بھی جزئی یا کلی فرق ان میں پایا نہیں گیا ۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader