Urdu book · مطالعۂ سیرت

تکمیل دین

Urdu book, p. 44

By Maulana Wahiduddin Khan

دوسری مقدس کتابوں کا معاملہ اس کے بالکل برعکس تھا۔ ان کے مختلف نسخوں میں ہزاروں واضح فرق پائے گئے۔ مثال کے طور پر تورات کے کچھ نسخوں میں ایک گروہ کی تعداد دس ہزار (Ten Thousands) بتائی گئی تھی۔ اور کچھ دوسرے نسخوں میں اسی گروہ کی تعداد کے لیے ہزاروں (Thousands) کا لفظ درج تھا۔ انجیل میں ایک مقام پر حضرت مسیح کے لیے ابن اللہ (son of God) لکھا ہوا ملا۔ اور اس کے کچھ دوسرے نسخوں میں حضرت مسیح کو ابن داؤد (son of David) لکھا ہوا تھا۔ وغیرہ۔ موجودہ دور آزادی قرآن اور اسلام کے لیے ایک چیلنج بن کر سامنے آیا تھا۔ مگر آخری نتیجہ کے اعتبار سے دیکھیے تو وہ اسلام کے حق میں صرف مفید ثابت ہوا۔ اس نے قرآن کے حق میں ایک نئی تاریخی دلیل فراہم کر دی۔ قرآن اور دوسری مقدس کتابوں کا فرق جو اب تک صرف مسلمانوں کے ذاتی عقیدہ کی حیثیت رکھتا تھا، وہ اب خود علم انسانی کی رو سے ایک ثابت شدہ حقیقت بن گیا۔ آزادی کا یہ طوفان بظاہر اہل اسلام کے لیے عُسر کا ایک واقعہ تھا۔ مگر آخری مرحلہ میں پہنچ کر وہ اہل اسلام کے لیے عین یُسر کے ہم معنی ثابت ہوا۔ ۲۔ دوسرا فکری انقلاب جدید سائنسی انقلاب ہے۔ خاص طور پر انیسویں صدی عیسوی میں کسی چیز کو دریافت کرنے کا وہ طریقہ وضع ہوا جس کو سائنسی طریقہ (scientific method) کہا جاتا ہے۔ اس طریقہ میں چیزوں کو قابل مشاہدہ یا قابل تجربہ واقعات کی روشنی میں جانچا جاتا ہے ۔ اس طریقہ کے رواج سے انسان کو بہت سی نئی چیزوں کے بارہ میں واقفیت ہوئی۔ مثلاً شمسی نظام کا تفصیلی علم، یا زمین کی تہوں کے بارہ میں قطعی معلومات ۔ ان مادی دریافتوں کے بعد ایک مستقل فلسفہ بنا جس کو عام طور پر پاپٹیوٹزم (positivism) کہا جاتا ہے ۔ اسی فلسفہ کے تحت یہ سمجھا جانے لگا کسی حقیقی علم تک پہنچنے کا معیار (criterion) صرف ایک ہے، اور وہ براہ راست تجربہ یا مشاہدہ ہے جو قابل تصدیق (verifiable) ہو۔ اس نقطہ نظر سے دیکھا گیا تو مذہبی معتقدات اس معیار پر پورے ہوتے نظر نہیں آئے۔ کیونکہ مذہبی عقائد تمام تر بالواسطہ استدلال یا استنباط کی بنیاد پر قائم تھے ۔ مثلاً خدا کا وجود نا قابل مشاہدہ تھا۔ اس کے حق میں جو دلیل دی جاتی تھی وہ بس اس قسم کی تھی کہ اس عالم میں چونکہ ڈیزائن ہے ، اس لیے ضروری ہے کہ اس کا ایک ڈیزائنر ہو۔ اس قسم کا استنباطی استدلال جدید علمی معیار کے مطابق غیر معقول

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page