آدمی اگر جانے
Urdu book, p. 12
By Maulana Wahiduddin Khan
آدمی اگر جانے موجودہ دنیا امتحان کی دنیا ہے۔ اس دنیا میں جس طرح ہدایت کے مواقع رکھے گئے ہیں اسی طرح گمراہی کے راستے بھی کھلے ہوئے ہیں۔ ہر آدمی آزاد ہے کہ وہ جس رخ پر چاہے چلے۔ وہ مواقع کو جس طرح چاہے استعمال کرے۔ اپنی قوتوں کو جس کام میں چاہے لگائے۔ مگر یہ سب محض وقتی ہے نہ کہ مستقل۔ یہاں جو شخص حق کی آواز کو رد کرنا چاہے اس کو با آسانی ایسے خوبصورت الفاظ مل جاتے ہیں جن کو بول کر وہ اپنے آپ کو جھوٹے یقین میں مبتلا کرلے۔ یہاں دین کی سچی دعوت کو نظر انداز کرکے بھی آدمی ایسے در و دیوار پالینتا ہے جن کے سایہ میں وہ پناہ لے سکے۔ یہاں خدا کی پکار کی طرف سے اپنے کانوں کو بند کرکے بھی ایسی چٹانیں مل جاتی ہیں جو کسی کو یہ تسکین دے سکیں کہ اس نے اپنے لئے ایک مضبوط سہارا دریافت کرلیا۔ مگر جب پردہ ہٹے گا تو یہ چیزیں اتنی بے معنی ثابت ہوں گی جیسے ان کا کوئی وجود ہی نہ تھا۔ جب قیامت کی چنگھاڑ بلند ہوگی اور کائنات کا مالک اپنے جلال کے ساتھ ظاہر ہوگا تو آدمی اتنا بے بس ہوگا کہ اس کے لئے اس کے سوا کوئی چارہ نہ ہوگا کہ ان تمام باتوں کو مان لے جن کو ماننے کے لئے وہ پہلے تیار نہ ہوتا تھا۔ حقیقت یہ ہے کہ آدمی اگر آنے والے دن کی ہولناکی کو جانے تو اس کی چلتی ہوئی زبان بند ہو جائے جس کے الفاظ کا ذخیرہ آج کسی طرح ختم ہونے والا نظر نہیں آتا۔ اس کے اٹھے ہوئے ہاتھ رک جائیں جس کو اخلاق اور انسانیت کا ہر وعظ رو کنے میں ناکام ثابت ہو رہا ہے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader