آہ یہ انسان
Urdu book, p. 13
By Maulana Wahiduddin Khan
آہ یہ انسان آج ہر آدمی بے ہوش نظر آتا ہے۔ ہر آدمی اپنے آپ میں اس طرح گم ہے جیسے اس کے اوپر کوئی اور طاقت نہیں۔ حالانکہ موت ہر روز بتا رہی ہے کہ آدمی ایک ایسی حقیقت سے دوچار ہے جس کے مقابلہ میں کسی کا کچھ بس نہیں چلتا۔ انسان کتنا زیادہ مجبور ہے مگر وہ اپنے آپ کو کتنا زیادہ با اختیار سمجھتا ہے۔ آدمی وعدہ کرتا ہے مگر اس کے بعد اس کو نظر انداز کر دیتا ہے۔ اس کے اوپر کسی کا ایک حق آتا ہے مگر وہ اس کو ادا نہیں کرتا۔ آدمی کے سامنے ایک سچائی آتی ہے مگر وہ اس کا اعتراف نہیں کرتا۔ وہ دوسرے کے اوپر یک طرفہ الزام لگاتا ہے اور اپنی غلطی ماننے کے لئے تیار نہیں ہوتا۔ وہ چھوٹوں کو نظر انداز کر کے بڑوں کا استقبال کرتا ہے۔ وہ اپنی زندگی کو اصول کے تابع کرنے کے بجائے خواہشات کے تابع کرتا ہے۔ وہ زور آور سے دبتا ہے اور بے زور کو ستاتا ہے۔ وہ خدا کو مرکز توجہ بنانے کے بجائے خود اپنی ذات کو مرکز توجہ بناتا ہے۔ وہ جنت کے اشتیاق اور جہنم کے اندیشہ میں جینے کے بجائے دنیا کے اشتیاق اور دنیا کے اندیشیوں میں جیتا ہے۔ آدمی یہ سب کچھ کرتا ہے اور بھول جاتا ہے کہ اپنی اس روش سے وہ اپنے آپ کو جہنم کے قریب لے جا رہا ہے اور اپنے آپ کو جنت کے لئے نااہل ثابت کر رہا ہے۔ آہ وہ انسان جس کو اسی چیز کا شوق نہیں جس کا اسے سب سے زیادہ شوق کرنا چاہئے۔ آہ وہ انسان جو اسی چیز سے سب سے زیادہ بے خوف ہے جس سے اسے سب سے زیادہ خوف کرنے کی ضرورت ہے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader