نئے عہد کے دروازہ پر
Urdu book, p. 13
By Maulana Wahiduddin Khan
کسی کا سوچا سمجھا ہوا ارادہ شامل نہیں ہے۔ امریکہ کے بعض بحری افسروں نے جو سمندر کی پیمائش کر رہا ہے، ایک تجربہ کیا۔ انھوں نے موٹے شیشے کی کئی ہوا بند کھوکھلی گیندوں (vaccum ball) کو سمندر میں ڈالا۔ نکالنے پر معلوم ہوا کہ وہ پانی سے بھر گئی ہیں۔ خوردبین (microscope) سے دیکھا گیا تو شیشے کی سطح کے ٹوٹنے یا سوراخ ہونے کا کوئی نشان نہیں ملا۔ اس سے ثابت ہوا کہ پانی کے نیچے 15 ہزار فٹ کی گہرائی میں ایک مربع انچ پر اتنا دباؤ ہے کہ وہ ایک گھنٹہ سے کم وقفے میں پانی کو شیشے کی موٹی دیواروں سے گزار دیتا ہے۔ اب غور کیجیے کہ جب 15 ہزار فٹ کی گہرائی پر پانی کا دباؤ اس قدر ہے تو ان مقامات پر کتنے زور کا دباؤ پڑتا ہو گا جہاں سمندر 5 میل یا اس سے بھی زیادہ گہرے ہیں۔ چنانچہ یہ سمندر جو زمین کے تین چوتھائی حصہ میں پھیلے ہوئے ہیں، اپنی تہہ کے نیچے مسلسل فواروں کی شکل میں زمین کے اندر پانی داخل کر رہے ہیں۔ زمین کا اندرونی حصہ جو 40-30 میل کے بعد شروع ہوتا ہے، نہایت گرم ہے۔ جب یہ پانی زمین کے اندر پہنچتا ہے تو وہ اندرونی حرارت سے بھاپ بن کر خارج ہو جاتا ہے۔ اگر کسی دن اوپری حصے کی طرح ساری زمین سرد ہو جائے تو جس طرح روئی یا جاذب کاغذ میں پانی جذب ہوتا ہے، اسی طرح وہ نہایت تیزی کے ساتھ زمین میں جذب ہونا شروع ہو جائے گا اور چند سو سال کے اندر سطح زمین سے اس طرح غائب ہو گا جس طرح وہ ریگستانوں سے غائب ہوا ہے۔ ایسی حالت میں ساری زمین غیر آباد اور ویران ہو کر رہ جائے گی اور ہر جگہ چاند جیسی خاموشی طاری ہو گی۔ پھر یہ کیا محض اتفاق ہے کہ انسانوں کو آباد کرنے کے لیے زمین کا اوپری حصہ ٹھنڈا اور اندرونی حصہ نہایت گرم ہے اور آسمان میں کبھی بالکل اچانک طور پر ایک نہایت چمک دار ستارہ دکھائی دیتا ہے جس کو نیا تارہ (Nava) کا نام دیا گیا ہے۔ موجودہ تحقیقات سے یہ ثابت ہوا ہے کہ یہ نئے ستارے نہیں ہوتے بلکہ پرانے دھیمے ستارے یک بیک بھڑک اٹھتے ہیں اور بڑھتے بڑھتے 25-20 ہزار آفتابوں کے برابر تیز روشنی سے چمکنے لگتے ہیں۔ اس طرح کا عمل مختلف ستاروں کے ساتھ ہوتا ہے مگر یہ

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader