نئے عہد کے دروازہ پر
Urdu book, p. 12
By Maulana Wahiduddin Khan
یہ زمین جس پر ہم رہتے ہیں، آپ کو معلوم ہے کہ کسی ہاتھی کی پیٹھ پر نہیں رکھی ہوئی ہے، بلکہ وہ فضا میں معلق (suspended) ہے۔ زمین کی گولائی خط استوا (Latitude) پر 25 ہزار میل ہے۔ اس کے مقابلے میں سورج اتنا بڑا ہے کہ اگر اس کے ٹکڑے کیے جائیں تو اس سے ہماری زمین جیسی 12 لاکھ 34 ہزار زمینیں نکل سکتی ہیں۔ پھر یہ بڑائی بھی آخری بڑائی نہیں۔ آسمان میں کتنے ستارے ایسے ہیں جو سورج سے ہزار گنا بڑے ہیں۔ ان کے علاوہ بے شمار ستارے ایسے ہیں جو موجودہ دور بینوں کی دسترس سے باہر ہیں اور جن کی وسعت کا اب تک کوئی اندازہ نہ کیا جا سکا۔ اس طرح کے اربوں اور کھر بوں نہیں بلکہ لا تعداد ستارے فضا میں کسی سہارے کے بغیر ٹھہرے ہوئے ہیں اور جذب و کشش کے عظیم قانون کے تحت اربوں سال سے گردش کر رہے ہیں۔ کیا یہ محض اتفاق (mere accident) ہے اور اس کے پیچھے کوئی قدرت نہیں ہے جو انھیں سنبھالے ہوئے ہو۔ زمین سے چاند کا فاصلہ 2 لاکھ 40 ہزار میل ہے اور سورج ہم سے 9 کروڑ 43 لاکھ میل دور ہے۔ کائنات کی وسعت کے اعتبار سے یہ فاصلہ بہت کم ہے۔ سورج اور چاند کے علاوہ کوئی ستارہ (star) یا سیارہ (planet) ہم سے اتنا قریب نہیں ہے۔ ہم سے قریب ترین جو ستارہ ہے وہ بھی اتنی دور ہے کہ اس کی روشنی زمین تک سوا چار سال میں پہنچتی ہے۔ واضح ہو کہ روشنی کی رفتار ایک لاکھ 86 ہزار میل فی سیکنڈ ہے۔ یعنی اس ستارے کی روشنی 60 کھرب میل سالانہ کی رفتار سے مسلسل چلتی رہے تو وہ ہماری زمین تک 51 مہینے میں پہنچے گی۔ جب کہ سورج کی روشنی صرف 9 منٹ میں پہنچ جاتی ہے۔ یہ قریب ترین ستارے کا حال ہے۔ ورنہ بعض ستارے اور اکثر سحابے (Nebulas) ہم سے اس قدر دور ہیں کہ ان کی روشنی ہم تک کروڑوں سال میں پہنچتی ہے، اور کتنے ستارے ایسے ہیں جن کی روشنی غالباً آج تک زمین پر نہیں پہنچی۔ حالاں کہ اس نے اپنا سفر اس وقت شروع کیا تھا جب کائنات کی ابتدا ہوئی تھی۔ اتنی لمبی چوڑی کائنات میں تمام دوسرے ستاروں کے خلاف سورج اور چاند کا ہم سے اس قدر قریب ہونا سخت حیرت انگیز ہے۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو ایشیا اور یورپ اور افریقہ اور امریکا اور آسٹریلیا سب برفستان (ice-cap) ہوتے اور روئے زمین پر کوئی جان دار دکھائی نہ دیتا۔ پھر یہ کیا محض اتفاق ہے اور اس میں

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader