Urdu book · نئے عہد کے دروازہ پر

نئے عہد کے دروازہ پر

Urdu book, p. 15

By Maulana Wahiduddin Khan

ہیں۔ یہ ہوا کا غلاف دنیا کے گرد نہ ہوتا تو شہاب ثاقب بہت بڑی تعداد میں نہایت شدت کے ساتھ زمین پر گرتے۔ ہم اُن کے خلاف کوئی بچاؤ نہیں کر سکتے تھے اور تھوڑے دونوں کے بعد ساری دنیا کا وہی انجام ہوتا جو ہیر و شیما اور ناگاساکی کا ہو چکا ہے۔ چاند کی سطح پر جو بہت سے غار ہیں، خیال کیا جاتا ہے کہ یہ اسی قسم کے بڑے بڑے شہابے (Meteors) کی بم باری سے پیدا ہوئے ہیں۔ پتھروں کی یہ خطرناک بارش جو ہر وقت فضا میں ہو رہی ہے، اس سے ہمارا بچے رہنا کیا محض ایک اتفاق ہے اور اس میں کسی انتظام کرنے والے کا نظام شامل نہیں۔ کائنات کے اندر اس طرح کی بے شمار حقیقتیں اس بات کی گواہ ہیں کہ کوئی عظیم قوت ہے جو اس کائنات کو سنبھالے ہوئے ہے اور نہایت باقاعدگی کے ساتھ اس کا انتظام کر رہی ہے۔ کوئی شخص کیا محض اس لیے خدا کا انکار کر سکتا ہے کہ وہ کسی پہاڑ کی چوٹی پر بیٹھا ہوا نہیں ہے۔ جہاں جا کر وہ اسے دیکھ آئے، ایتھر (Ether) ایک ایسی چیز ہے جو ہر وقت اور ہر جگہ موجود ہے۔ جس پر ٹیلی ویژن کی تصویریں اور لادسلکی (wireless) کے پیغامات سفر کرتے ہیں۔ مگر کیا ایتھر کو کسی نے دیکھا ہے۔ وہ ایک ایسا لطیف عنصر ہے جس کا کوئی وزن نہیں۔ وہ نہ جگہ گھیرتا ہے اور نہ کسی خورد بین سے دیکھا جا سکتا ہے مگر سب لوگ اس کا وجود تسلیم کرتے ہیں۔ جو شخص یہ کہتا ہے کہ میں خدا کو اس وقت تک نہیں مانوں گا جب تک اپنی آنکھوں سے دیکھ نہ لوں، وہ گویا اس بات کا دعویٰ کرتا ہے کہ کائنات کی وسعتوں کو اس نے پار کر لیا ہے۔ جس کائنات کے بارے میں اب تک ہم یہ نہ جان سکے کہ وہ کتنی لمبی چوڑی ہے، ہم اس کے پیدا کرنے والے کا کس طرح احاطہ کر سکتے ہیں۔ سورج خدا کی ایک بہت چھوٹی سی مخلوق ہے مگر کروڑوں میل دور ہو کر اس کی روشنی کا یہ حال ہے کہ ہم اس پر نظر ٹھہرائیں تو ہماری آنکھ کی روشنی زائل ہو جائے۔ پھر وہ خدا جو ساری قوتوں کا خزانہ ہے۔ جو نہ صرف سورج بلکہ اس سے بڑے بڑے بے شمار ستاروں کو بھی روشنی اور حرارت پہنچا رہا ہے۔ کیا وہ ایسا ہی ہوگا کہ ہم اپنی آنکھوں سے اسے دیکھ لیں۔ خدا کو ماننے کے لیے خدا کو دیکھنے کی کوئی ضرورت نہیں۔ اس کو ہر جگہ اس کی حیرت انگیز کاری

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page