نئے عہد کے دروازہ پر
Urdu book, p. 16
By Maulana Wahiduddin Khan
گری میں ہم دیکھ سکتے ہیں۔ اس پھیلی ہوئی کائنات کا اس قدر منظم ہو کر چلنا اور اس کے مختلف عناصر میں باہم اس درجہ موافقت (harmony) ہونا، ایک خدا کی موجودگی کا سب سے بڑا ثبوت ہے۔ ہندوستان میں ریلوے کا ایک چھوٹا سا نظام ہے جس کے راستوں کی لمبائی مجموعی طور پر 34 ہزار میل ہے اور جس کے انتظام کے لیے اس وقت تقریباً سوا نو لاکھ آدمی ملازم ہیں۔ مگر اتنے سارے آدمیوں کی دیکھ بھال کے ساتھ اس مختصر سی لائن پر جو ٹرینیں دوڑتی ہیں، ان سے ہر سال تقریباً 25 ہزار حادثے ہوتے ہیں۔ مگر کائنات کا اتنا بڑا کارخانہ کروڑوں اور اربوں سال سے چل رہا ہے اور اس میں کوئی ٹکراؤ پیدا نہیں ہوتا۔ کیا یہ واقعہ اس بات کے ثبوت کے لیے کافی نہیں ہے کہ یہاں ایک زندہ قوت موجود ہے جو اپنے وسیع علم اور غیر معمولی اختیارات کے ذریعہ کائنات کے نظام کو چلا رہی ہے۔ یورپ میں سترھویں صدی عیسوی میں سائنس اور کلیسا (church) کا جو تصادم ہوا اور جس میں کلیسا نے بالکل غلط طور پر مذہب کا نام لے کر نئی سائنسی تحقیقات کو دبانے کے لیے نہایت وحشیانہ مظالم کیے ۔ اس کے نتیجے میں سائنس دانوں کو ما بعد الطبیعی نقطۂ نظر سے ایک ضد سی پیدا ہوگئی اور انھوں نے کوشش کی کہ کائنات کی تعبیر اس طرح کی جائے جس سے ثابت ہو کہ کلیسا کی بنیاد جس خدا کے تصور پر قائم ہے، اس کا کہیں وجود ہی نہیں ہے۔ اس کائنات کا کوئی چلانے والا نہیں ہے بلکہ وہ اپنے آپ ایک بے جان مشین کی طرح چلی جارہی ہے۔ اسی زمانے میں لارڈ کیلون (Lord Kelvin) نے کہا تھا کہ جب تک میں کسی چیز کا مشینی ماڈل نہیں بنا لیتا تب تک میں اسے سمجھ نہیں سکتا۔ دمدار ستارے جو جاہل قوموں کے نزدیک سلطنتوں کے زوال اور شاہوں کے انتقال کا نشان سمجھے جاتے تھے، جب ان کی حرکت، تجاذب (gravitation) کے عالم گیر قانون کے مطابق ثابت کی گئی تو نیوٹن (Isaac Newton) نے کہا کہ کیا اچھا ہو اگر دوسرے واقعات قدرت بھی اسی قسم کے استدلال سے میکانی اصولوں (mechanical principles) کے ذریعے اخذ ہو سکیں۔ مگر یہ ایک جذباتی ردعمل تھا اور بہت جلد معلوم ہو گیا کہ کائنات کی صحیح توجیہہ (explanation) بن نہیں سکتی اگر اس کو صرف ایک بے دماغ مشین مان لیا جائے۔ چناں چہ اب بڑے بڑے سائنس داں

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader