Urdu book · پیغمبرِ انقلاب

سنتِ رسول

Urdu book, p. 107

By Maulana Wahiduddin Khan

فتح مکہ کے بعد پہلے سال (8 ھ) میں مسلمانوں نے حج کیا مگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف نہیں لے گئے۔ دوسرے سال (9 ھ) میں آپ نے مسلمان حاجیوں کا قافلہ حضرت ابوبکر کی قیادت میں مدینہ سے مکہ روانہ کیا۔ اس کے بعد قرآن میں یہ حکم اترا کہ مشرکین نجس ہیں، اس سال کے بعد وہ مسجد حرام کے قریب نہ آئیں (التوبہ، 9:28)۔ چنانچہ آپ نے حضرت علی کو مکہ بھیجا اور حکم دیا کہ حج کے اجتماع میں گھوم گھوم کر یہ اعلان کر دیں کہ اس سال کے بعد کوئی مشرک حج کے لیے نہ آئے اور اب سے کوئی شخص ننگی حالت میں کعبہ کا طواف نہ کرے (لاَ يَحُجُّ بَعْدَ الْعَامِ مُشْرِكٌ وَلاَ يَطُوفُ بِالْبَيْتِ عُرْيَانٌ) صحیح البخاری، حدیث نمبر 369۔ اس طرح تیسرے سال جب دھیرے دھیرے شرک کا خاتمہ کر دیا گیا اس وقت آپ نے مکہ جا کر حج ادا فرمایا۔ یہی رسول اللہ علیہ وسلم کا آخری حج (حجۃ الوداع) تھا۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے احکام کے نفاذ میں کس طرح تدریجی حکمت کا لحاظ فرمایا ہے۔ حتیٰ کہ اقتدار پر قبضہ ملنے کے باوجود آپ نے تدریج کے اصول کو ترک نہیں کیا۔ خدا کے پیغمبر نے اپنے آپ کو روک لیا مگر مشرکین کو وقت سے پہلے روکنے کے لیے اقدام نہیں فرمایا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت صرف وہی نہیں ہے جس کو عام طور پر لوگ ”سنت“ کے نام سے جانتے ہیں۔ اس کے سوا بھی رسول اللہ کی سنتیں ہیں۔ ان میں اس ایک سنت وہ ہے جس کو تدریج یا حقیقت پسندی کہا جا سکتا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ میں پیغمبر کی حیثیت سے 13 سال رہے مگر آپ نے کبھی یہ نہ کیا کہ کعبہ کی بے حرمتی کے خلاف احتجاجی جلوس نکالیں۔ حتیٰ کہ فتح و غلبہ حاصل ہونے کے بعد بھی آپ نے بیہودہ مراسم کے خاتمہ کے لیے جلد بازی نہیں کی۔ طاقت ور ہونے کے باوجود آپ نے دو سال تک انتظار فرمایا اور تیسرے حج میں وہ تمام اصلاحات نافذ کیں جو آپ ملک میں نافذ کرنا چاہتے تھے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page