سنتِ رسول
Urdu book, p. 106
By Maulana Wahiduddin Khan
الْخَمْرُ، لَقَالُوا: لَا نَدَعُ الْخَمْرَ أَبَدًا، وَلَوْ نَزَلَ: لَا تَزْنُوا، لَقَالُوا: لَا نَدَعُ الزِّنَا أَبَدًا (صحيح البخاری، حدیث نمبر 4993)۔ یعنی، قرآن میں سب سے پہلے مفصل سورتیں اتریں جن میں جنت اور جہنم کا تذکرہ ہے۔ یہاں تک کہ جب لوگوں کے دل اسلام کے لیے ہموار ہو گئے تو حرام وحلال کی آیتیں اتریں۔ اگر پہلے ہی یہ اترتا کہ شراب نہ پیو تو لوگ کہتے کہ ہم کبھی شراب نہ چھوڑیں گے۔ اور اگر پہلے ہی اترتا کہ زنا نہ کرو تو لوگ کہتے کہ ہم کبھی زنا نہ چھوڑیں گے۔ رمضان 8ھ میں مکہ فتح ہوا۔ اس کے بعد عرب کا مرکز قیادت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قبضہ میں آگیا۔ مگر تاریخ بتاتی ہے کہ آپ نے بیت اللہ سے متعلق شرعی احکام کا فوری نفاذ نہیں فرمایا۔ بلکہ جو کچھ کرنا تھا تدرج کے ساتھ کیا۔ فتح مکہ کے بعد اسلامی اقتدار قائم ہونے کے باوجود 8ھ میں جو حج ہوا وہ بدستور قدیم جاہلی رواج کے مطابق ہوا۔ اس کے بعد 9ھ میں اسلامی دور کا دوسرا حج اس طرح کیا گیا کہ مسلمانوں نے اپنے طریقہ پر حج کیا اور مشرکین نے اپنے طریقہ پر۔ پھر جب 10ھ میں تیسرا حج آیا تو آپ کے حکم کے مطابق اس کو خالص اسلامی طریقہ پر انجام دیا گیا۔ یہی دور اسلامی کا تیسرا حج ہے جو اسلامی تاریخ میں حجۃ الوداع کے نام سے مشہور ہے۔ طبعی طور پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات سخت ناپسند تھی کہ مشرکین بیت اللہ میں آئیں اور اپنے مشرکانہ رواج کے مطابق حج کے مراسم ادا کریں۔ مگر اقتدار حاصل ہونے کے باوجود آپ نے شریعت کے نفاذ میں جلدی نہیں کی۔ فتح مکہ کے بعد دو سال تک آپ حج کی ادائیگی کے لیے مکہ نہیں گئے۔ حج کا موسم آیا تو آپ نے فرمایا: مشرکین بیت اللہ میں آئیں گے اور ننگے ہو کر حج کریں گے۔ مجھے پسند نہیں کہ میں حج کروں جب تک یہ چیزیں ختم نہ ہو جائیں (إِنَّمَا يَحْضُرُ الْمُشْرِكُونَ فَيَطُوفُونَ عُرَاةً، فَلَا أُحِبُّ أَنْ أَحُجَّ حَتَّى لَا يَكُونَ ذَلِكَ) تفسیر ابن کثیر، جلد 4، صفحہ 103۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader