پیغمبرِ انقلاب
Urdu book, p. 111
By Maulana Wahiduddin Khan
23 سالوں میں جو غزوات پیش آئے ان کی تعداد 81 بتائی جاتی ہے۔ تا ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صرف 27 غزوات میں شریک تھے اور عملاً با قاعدہ جنگ صرف چند ہی غزوات میں پیش آئی۔ ان لڑائیوں میں مجموعی طور پر ہلاک ہونے والوں کی تعداد اس طرح ہے: مسلمان مقتولین 259 غیر مسلم مقتولین 759 = 1018 صدرِ اول کا یہ انقلاب تاریخ کا عظیم ترین انقلاب تھا جس نے انسانی تاریخ کے دھارے کو موڑ دیا۔ اتنے بڑے انقلاب میں مقتولین کی یہ تعداد اتنی کم ہے کہ اس کو غیر خونی انقلاب (Bloodless Revolution) کہا جا سکتا ہے۔ ہمارے لکھنے اور بولنے والے اکثر پر جوش انداز میں اس انقلاب کا مقابلہ موجودہ زمانہ کے غیر اسلامی انقلابات سے کرتے ہیں۔ وہ فخر کے ساتھ کہتے ہیں کہ اسلامی انقلاب صرف ایک ہزار آدمیوں کی جان لے کر کامیاب ہو گیا۔ جب کہ فرانس میں جمہوری انقلاب لانے کے لیے اور روس میں اشتراک کی انقلاب لانے کے لیے اتنے زیادہ آدمیوں کو قربان ہونا پڑا جن کی تعداد لاکھوں میں شمار ہوتی ہے۔ یہ تقابل ہم کو بہت پسند ہے کیونکہ اس میں ہماری پُر فخر نفسیات کو تسکین ملتی ہے۔ مگر یہاں تقابل کی ایک اور صورت ہے جس پر مسلمانوں نے کبھی غور نہیں کیا۔ اس کی وجہ شاید یہ ہے کہ یہ دوسرا تقابل نصیحت کا تقابل ہے اور نصیحت آدمی کے لیے ہمیشہ بہت کڑوی ہوتی ہے۔ یہ دوسرا تقابل یہ ہے کہ آپ صدرِ اول کی اسلامی دعوت میں مرنے والے کا مقابلہ موجودہ زمانہ کی مسلم تحریکوں میں مرنے والوں سے کریں۔ بالفاظ دیگر، صدرِ اول کے انقلاب سے خود اپنی انقلابی کوششوں کا موازنہ کریں۔ مسلمانوں نے موجودہ زمانہ میں دینی انقلاب اور اسلامی جہاد کے نام پر بڑی بڑی تحریکیں اٹھائی ہیں۔ مسلمان جس طرح

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader