Urdu book · پیغمبرِ انقلاب

پیغمبرِ انقلاب

Urdu book, p. 112

By Maulana Wahiduddin Khan

زمانۂ رسالت کے دینی انقلاب کا تقابل غیر مسلموں کے لادینی انقلابات سے کرتے ہیں اسی طرح انہیں چاہیے کہ وہ زمانۂ رسالت کے انقلاب کو سامنے رکھ کر خود اپنی اٹھائی ہوئی تحریکوں کو تولیں اور ان کے نتائج کا جائزہ لیں۔ اگر مسلمان یہ تقابل کریں تو وہ حیرت انگیز طور پر پائیں گے کہ انہوں نے پیغمبر کی تحریک کے مقابلہ میں دوسری اقوام کی لادینی تحریکوں کو جس مقام پر کھڑا کر رکھا ہے، عین اسی مقام پر خود ان کی موجودہ زمانہ کی تحریکیں بھی کھڑی ہوئی ہیں۔ الجزائر کے جہاد آزادی میں 25 لاکھ مسلمان مرے، ہندوستان کے جہاد آزادی میں 5 لاکھ علماء اور مسلمان شہید ہوئے، اسلامی پاکستان کو وجود میں لانے کے درمیان ایک کروڑ انسان کام آگئے۔ اسی طرح شام، عراق، ایران، مصر، فلسطین اور دوسرے علاقوں میں جو لوگ اسلام کے نام پر جانیں دے رہے ہیں ان کی تعداد لاکھوں سے بھی زیادہ ہے۔ مزید یہ کہ ان تمام قربانیوں کا حاصل کچھ بھی نہیں۔ صدر اول کی اسلامی تحریک میں دس سو آدمی کام آئے، اور اس کے بعد ایسا دور رس انقلاب آیا جس کے اثرات ساری دنیا نے محسوس کرلیے۔ موجودہ زمانہ کی اسلامی تحریکوں میں مجموعی طور پر دس کروڑ آدمی ہلاک اور برباد ہوگئے۔ اس کے باوجود زمین کے اوپر کوئی ایک چھوٹا سا خطہ بھی نہیں، جہاں اسلامی انقلاب حقیقی معنوں میں کامیاب اور نتیجہ خیز نظر آتا ہو۔ پھر بات صرف اتنی ہی نہیں ہے بلکہ اس سے زیادہ سخت ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ موجودہ زمانہ میں ہماری کوششوں کا بالکل الٹا نتیجہ برآمد ہوا ہے۔ ہمارے حق میں بائبل کے وہ الفاظ پورے ہوئے ہیں جو یہودیوں کے بارے میں کہے گئے تھے: اور تمھارابیج بونا فضُول ہوگا کیونکہ تمھارے دُشمن اُس کی فصل کھائیں گے۔ اور مَیں خود بھی تمھارا مُخالف ہو جاؤں گا اور تم اپنے دُشمنوں کے آگے شِکست کھاؤ گے اور جن کو تم

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page