Urdu book · پیغمبرِ انقلاب

دیباچہ

Urdu book, p. 11

By Maulana Wahiduddin Khan

کہ اس کو نسبتِ زراعت حاصل ہے۔ کسان کو نسبتِ زراعت حاصل ہونے کا مطلب یہ ہے کہ خدا نے وہ اسباب کامل طور پر مہیا کر دیے ہیں جن کو صحیح طور پر استعمال کر کے کوئی کسان اپنے لیے لہلہاتی ہوئی فصل اگا سکتا ہے۔ اسی طرح پیغمبر اور آپ کی امت کے لیے نسبتِ اظہار یا نسبتِ غلبہ کا مطلب یہ ہے کہ آپ کے لیے خدا نے وہ تمام حالات بہترین طور پر مہیا کر دیے ہیں جو دین کے غلبہ کے لیے اس عالم اسباب میں مطلوب ہیں۔ جب بھی ان کو استعمال کیا جائے گا تو اس کا نتیجہ یقینی طور پر مثبت شکل میں برآمد ہوگا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے حضرت ابراہیم سے لے کر آپ کی بعثت تک ڈھائی ہزار سال کے اندر تمام موافق حالات بہترین طور پر جمع کر دیے گئے۔ آپ نے ہدایتِ خداوندی کی پیروی کرتے ہوئے ان موافق حالات کو اویل (avail) کیا۔ اس کا نتیجہ عظیم الشان کامیابی کی صورت میں برآمد ہوا۔ اب دوبارہ پچھلے چودہ سو سال کے عرصہ میں مختلف تاریخی تبدیلیوں اور علمی ارتقاء کے ذریعہ ہر قسم کے موافق حالات ہمارے حق میں جمع کر دیے گئے ہیں۔ آج بھی پوری طرح یہ ممکن ہے کہ پیغمبر آخر الزماں کے لائے ہوئے دین کو غالب و سربلند کیا جائے۔ مگر یہ اسی وقت ممکن ہوگا جب کہ اس کے لیے وہ جدوجہد کی جائے جو قانون خداوندی کے مطابق کسی حقیقی نتیجہ کے ظہور کے لیے ضروری ہے۔ یہ شرط نہ پیغمبر کے لیے ساقط کی گئی اور نہ آپ کے امتیوں کے لیے وہ کبھی ساقط ہو سکتی ہے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page