دیباچہ
Urdu book, p. 10
By Maulana Wahiduddin Khan
سے ان کی نبوتیں ثابت شدہ نبوتیں نہیں۔ حضرت مسیح قدیم رسولوں میں سب سے آخری رسول ہیں۔ مگر آپ کا معاملہ بھی تاریخی اعتبار سے یہ ہے کہ ایک مغربی مفکر کو یہ کہنے کا موقع ملا۔ تاریخی اعتبار سے خود یہ امر سخت مشتبہ ہے کہ مسیح کا اس دنیا میں کبھی وجود بھی تھا: Historically, it is quite doubtfull whether Christ ever existed at all. (Bertrand Russell, Why I am not a Christian, London, 2004, p. 12) مگر پیغمبر آخر الزماں کا معاملہ بالکل مختلف ہے۔ آپ کی حیثیت تاریخی طور پر اس قدر مسلّم ہے کہ آپ کے بارے میں جب ایک ہسٹورین قلم اٹھاتا ہے تو اس کو یہ الفاظ لکھنے پڑتے ہیں_ محمد تاریخ کی پوری روشنی میں پیدا ہوئے: (Muhammad is) the only one of the world prophets to be born within the full light of history. (Philip K. Hitti, The Arabs: A Short History, London, 1960, p. 23) آپ کے زندہ پیغمبر ہونے ہی کا یہ پہلو بھی ہے کہ آپ کو جو معجزہ دیا گیا وہ ایک زندہ اور قائم رہنے والا معجزہ تھا، یعنی قرآن۔ اگر آپ کو عام قسم کے معجزے دیے جاتے تو وہ آپ کی وفات کے بعد ختم ہو جاتے۔ جب کہ آپ کی نبوت آپ کی وفات کے بعد بھی پوری طرح باقی رہنے والی تھی۔ اسی خاص مصلحت کی بنا پر آپ کے لیے آپ کی لائی ہوئی کتاب کو معجزہ بنا دیا گیا۔ معجزہ اس حیران کن واقعہ کا نام ہے جس کی نقل کسی انسان کے بس میں نہ ہو۔ قرآن کی نقل کسی فرد یا کسی گروہ کے بس میں نہیں۔ یہ واقعہ ثابت کرتا ہے کہ قرآن ایک خدائی معجزہ ہے۔ پیغمبر آخر الزماں صلی اللہ علیہ وسلم کو نسبت اظہار دی گئی تھی، یعنی دین کا آئیڈیولوجیکل اظہار (ideological manifestation)۔ یہی نسبت آپ کے بعد آپ کے امتیوں کو بھی حاصل ہے۔ مگر یہ نسبت بلا تشبیہ، ویسی ہی ہے جیسے کسان کے بارے میں کہا جائے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader