Urdu book · پیغمبرِ انقلاب

پیغمبرانہ طریق کار

Urdu book, p. 142

By Maulana Wahiduddin Khan

پیغمبرانہ طریق کار اسلام کا آغاز 610ء میں ہوا جب کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم (632-570ء) پر پہلی وحی اتری۔ اس وقت آپ ساری دنیا میں تنہا مومن و مسلم تھے۔ 622ء میں آپ مکہ سے ہجرت کر کے مدینہ پہنچے اور وہاں پہلی اسلامی مملکت قائم کی۔ اس وقت یہ اسلامی مملکت ایک چھوٹے سے شہر کے صرف چند حصوں پر مشتمل تھی۔ کیونکہ مدینہ کا بیشتر حصہ یہودیوں یا اب تک اسلام نہ لائے ہوئے عربوں کے قبضہ میں تھا۔ مگر اس کے گیارہ سال بعد جب پیغمبر اسلام کی وفات ہوئی تو اسلامی مملکت تقریباً دس لاکھ مربع میل (پورے عرب اور جنوبی فلسطین) پر پھیل چکی تھی۔ اس کے بعد سو برس سے بھی کم عرصہ میں اسلام ایک طرف شمالی افریقہ کے راستے سے اسپین اور دوسری طرف ایران کے راستے سے چین کی سرحدوں تک جا پہنچا۔ مشرقی یورپ میں اسلام کی پیش قدمی کی آخری حد بوڈاپسٹ (ہنگری) تھی جہاں آج بھی دریائے ڈانوب (Danube River) کے کنارے گل بابا‘‘ کا ترکی طرز کا مزار نشانی کا کام دے رہا ہے۔ فرانس کے بعض گرجاوں کے مناروں میں ایسے پتھر لگے ہوئے ہیں جن پر عربی عبارتیں کندہ ہیں۔ یہ آٹھویں صدی عیسوی کی یادگار ہے جب کہ فرانس کا جنوبی علاقہ خلیفہ دمشق کا یورپین صوبہ تھا۔ پیغمبر عربی کی امت نے شتر بانی کے مقام سے آغاز کر کے ہجرت کے صرف دو سو برس بعد یہ حیثیت حاصل کر لی تھی کہ وہ دنیا کے امام بن گئے۔ ایران کے اصطخر، مصر کے ریمس اور یورپ کے روم کی جگہ اب دنیا کا فکری و تمدنی مرکز بغداد تھا۔ یہ شان دار کامیابی ایک انتہائی سادہ پروگرام کے ذریعہ حاصل ہوئی جو قرآن کے لفظوں میں حسب ذیل تھا: یَا أَیُّھَا الْمُدَّثِّرُ، قُمْ فَأَنْذِرْ، وَرَبَّكَ فَکَبِّرْ، وَثِیَابَكَ فَطَھِّرْ، وَالرُّجْزَ فَاھْجُرْ، وَلاَ تَمْنُنْ

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page