Urdu book · پیغمبرِ انقلاب

حالات سے بلند ہو کر

Urdu book, p. 141

By Maulana Wahiduddin Khan

سے حبشہ کی فوج کو شکست دے دی اور حبشیوں کو یمن سے نکال دیا۔ اب معدی کرب صنعاء کا بادشاہ تھا تاہم ایرانی فوج بھی یہاں مقیم رہی۔ معدی کرب کے مرنے کے بعد ایرانی فوج نے صنعاء پر قبضہ کر لیا۔ اس طرح صنعاء ایرانی سلطنت کا ایک سمندر پار صوبہ بن گیا۔ جب اسلام یمن میں پہنچا ہے تو صنعاء کے ایرانی گورنر بازان تھے جو بعد کو مسلمان ہو گئے۔ مذکورہ تفصیلات سے ظاہر ہوتا ہے کہ پیغمبر اسلام کی بعثت ہوئی تو عرب کا علاقہ کس طرح ایرانی اور رومی استعمار کی شکار گاہ بنا ہوا تھا۔ ان حالات میں ایک مصلح کے لیے بیک وقت دو راستے کھلے ہوئے تھے۔ ایک یہ کہ وقت کے حالات سے متاثر ہو کر سا مراجی طاقتوں کے خلاف سیاسی لڑائی شروع کر دی جائے۔ دوسرے یہ کہ خود اپنے آپ کو اندر اندر اتنا مضبوط بنایا جائے کہ سامراج کی عمارت معمولی کوشش سے گر پڑے۔ آپ نے اپنی مہم کے لیے پہلے طریقہ کے بجائے دوسرا طریقہ اختیار کیا۔ قرآن کی سورہ نمبر 105 (الفیل) اور سورہ نمبر 106 (قریش) میں ابرہہ (حاکم یمن) کے مکہ کے خلاف جارحانہ منصوبہ کا ذکر ہے۔ مگر اس کے جواب میں جس عمل کی تلقین کی گئی ہے، وہ رب کعبہ کی عبادت (قریش، 106:3) ہے۔ گویا اسلامی مزاج یہ ہے کہ سیاسی چیلنج درپیش ہو تو اس کا جواب بھی عبادتی عمل کی سطح پر تلاش کیا جائے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page