Urdu book · پیغمبرِ انقلاب

اندرونی طاقت

Urdu book, p. 144

By Maulana Wahiduddin Khan

اول المسلمین بننا، با اعتبار محرک، ایک انتہائی انفرادی واقعہ ہے۔ مگر با اعتبار نتائج وہ وسیع ترین اجتماعی واقعہ بن جاتا ہے۔ یہ گویا اپنے اندر آتش فشاں کی تعمیر کرتا ہے جو بظاہر نگاہوں سے اوجھل ہوتا ہے مگر جب پھٹتا ہے تو سارے ماحول بلکہ سارے عالم کو اپنی لپیٹ میں لے لیتا ہے۔ قرآن کے نزول کی یہ ترتیب کہ ابتداءً عرصہ تک وہ سورتیں اترتی رہیں جن میں اندرونی اصلاح پر زور دیا گیا تھا، بیرونی اصلاح سے متعلق احکام بعد کو اترے، اس کی توجیہ کرتے ہوئے محمد مارماڈیوک پکتھال (1936-1875ء) نے اپنے ترجمہ قرآن کے دیباچہ میں لکھا ہے کہ اس کے اندر ایک گہری معنویت ہے اور وہ یہ کہ پیغمبر کا الہام اندرونی چیزوں سے شروع ہو کر بیرونی چیزوں کی طرف آتا ہے: The inspiration of the Prophet progressed from inmost things to outward things. اکثر لوگ عمل کا مطلب یہ سمجھتے ہیں کہ خارجی دنیا کے خلاف یورش شروع کردی جائے ۔ مگر زیادہ گہر عمل یہ ہے کہ خود اپنے اندرون کو اتنا طاقت ور بنایا جائے کہ جب وہ پھٹے تو کوئی چیز اس کی زد سے محفوظ نہ رہ سکے۔ اندرون کو طاقت ور بنانے سے مراد کوئی روحانی ورزش یا ’’عملیات‘‘ نہیں ہیں بلکہ وہی چیز ہے جس کو قرآن میں ایمان اور عمل صالح اور صبر کہا گیا ہے۔ اپنی روح اور اپنے قلب و دماغ کی گہرائیوں میں خدائی حقیقتوں کو اتارنا، اپنے آپ کو حیاتی طور پر زیادہ سے زیادہ عالم بالا سے جوڑنا، اپنے کو مکمل طور پر اس قالب میں ڈھال لینا کہ ’’میرا کسی کے اوپر کوئی حق نہیں، میری اس دنیا میں صرف ذمہ داریاں ہی ذمہ داریاں ہیں، راہ خدا میں جو کچھ پیش آئے، اس کو خاموشی سے اپنے اوپر لیتے رہنا، بجائے اس کے کہ اس کو دوسروں کے اوپر لوٹانے کی کوشش کی جائے۔ بس یہی وہ چیزیں ہیں جن کا نام اپنے اندرون کو طاقت ور بنانا ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ان چیزوں کا انتہائی مکمل نمونہ بن گئے۔ یہی وجہ ہے کہ آپ کی شخصیت اتنی بے پناہ ہوگئی کہ جو آپ کی زد

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page