اندرونی طاقت
Urdu book, p. 145
By Maulana Wahiduddin Khan
میں آیا مسخر ہو کر رہ گیا۔ آپ کا یہ اندرونی طوفان جب پھٹا تو وہ اتنا بے پناہ ثابت ہوا کہ تقریباً ساری آباد دنیا نے اس کے اثرات محسوس کیے۔ ہندی کے ادیب سردار پورن سنگھ (1931-1882ء) کے مقالہ کا عنوان ہے ”ویرتا“۔ اس میں انہوں نے پیغمبر اسلام کو تاریخ کا سب سے بڑا ویر (بہادر) بتایا ہے جو ”عرب کے ریگستان میں بارود کی طرح آگ لگا گئے“۔ ”گل پرتھوی بھے سے کانپ اٹھی“ جو لوگ ان کے سامنے آئے وہ ان کے داس بن گئے۔ ”وہ ویرتا کیا ہے جو کسی کو اتنا بل والا بنا دیتی ہے، انہیں کے الفاظ میں پڑھیے : ”اپنے آپ کو ہر گھڑی ہر پل مہمان سے بھی مہمان بنانے کا نام ویرتا ہے، کایر پرش کہتے ہیں ”آگے بڑھو چلو“ ویر کہتے ہیں ”پیچھے ہٹ چلو“ کایر کہتے ہیں ”اٹھاؤ تلوار“ ویر کہتے ہیں ”سر آگے کرو“۔ ویروں کی پالیسی بل کو ہر طرح اکٹھا کرنے اور بڑھانے کی ہوتی ہے۔ ویر تو اپنے اندر ہی اندر مارچ کرتے ہیں۔ کیونکہ ہر دے آکاش کے کیندر میں کھڑے ہو کر وہ کل سنسار کو ہلا سکتے ہیں۔ ویر وہ ویر کیا جو ٹن کے برتن کی طرح جھٹ گرم اور جھٹ ٹھنڈا ہو جاتا ہے۔ صدیوں نیچے آگ جلتی رہے تو بھی شاید ہی ویر گرم ہو اور ہزاروں ورش برف اس پر جمتی رہے تو بھی کیا مجال جو اس کی بانی تک ٹھنڈی ہو۔ لوگ کہتے ہیں ”کام کرو، کام کرو“، پر ہمیں تو یہ باتیں نر تھک معلوم ہوتی ہیں۔ پہلے کام کرنے کا بل پیدا کرو، اپنے اندر ہی اندر بر کچھ کی طرح بڑھو۔ دنیا کسی کوڑے کے ڈھیر پر نہیں کھڑی کہ جس مرغ نے بانگ دی وہی سدھ ہو گیا۔ دنیا دھرم اور اٹل آدھیاتمک نیموں پر کھڑی ہے، جو اپنے آپ کو ان نیموں کے ساتھ ابھید کر کے کھڑا ہوادہ وجئی ہو گیا“ (نبندھ چینی کا، مرتب مہندر چترویدی)۔ اس ”ویرتا“ یا اندرونی طاقت کا راز پر اسرار عملیات یا روحانی ورزشیں نہیں ہیں جو کونوں یا گوشوں میں بیٹھ کر کی جاتی ہیں۔ ”عملیات“ کے ذریعہ جو طاقت حاصل ہوتی ہے وہ جمادات و حیوانات کی دنیا میں کچھ چمتکار دکھا سکتی ہے۔ مگر زندگی کے مقابلوں میں وہ ایک

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader