آدم سے مسیح تک
Urdu book, p. 14
By Maulana Wahiduddin Khan
آڈم سے مسیح تک خدا کی طرف سے جتنے رسول آئے، سب اس لیے آئے کہ انسان کو زندگی کی حقیقت سے باخبر کریں، یہ حقیقت کہ موجودہ دنیا کی زندگی، انسان کی ابدی زندگی کا صرف ایک امتحانی وقفہ ہے۔ کم وبیش سوسال یہاں زندگی گزار کر ہم اپنی مستقل دنیا میں داخل ہوجاتے ہیں جہاں خدا کے وفادار بندوں کے لیے جنت ہے اور اس کے نافرمان بندوں کے لیے جہنم۔ آدم پہلے انسان بھی تھے اور پہلے رسول بھی۔ اس کے بعد حضرت مسیح تک مسلسل خدا کے پیغمبر آتے رہے۔ ابوامامہ کی روایت میں آیا ہے کہ ابوذرغفاری نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے انبیاء کی تعداد کے بارے میں سوال کیا آپ نے فرمایا، ایک لاکھ 24 ہزار۔ ان میں تین سو پندرہ رسول ہوئے (مسند احمد، حدیث نمبر 22288)۔ خدا کے ان نمائندوں نے مختلف قوموں اور آبادیوں کو خدا کے منصوبہ تخلیق (creation plan of God) سے باخبر کیا اور خدا سے ڈر کر زندگی گزارنے کی تلقین کی۔ مگر انسانوں میں بہت کم ایسے لوگ نکلے جو اپنی آزادیٔ عمل کو خدا کے حوالے کرنے کے لیے تیار ہوئے ہوں۔ حضرت یحییٰ کو کوئی ساتھی نہیں ملا اور وہ قتل کر دیے گئے۔ حضرت لوط نے اپنی قوم کو چھوڑا تو ان کے ساتھ ان کی صرف دو لڑکیاں تھیں۔ حضرت نوح کے ساتھ، ان کی کشتی کا قافلہ، توریت کے بیان کے مطابق، صرف آٹھ افراد پر مشتمل تھا۔ حضرت ابراہیم اپنے وطن عراق سے نکلے تو ان کے ساتھ ان کی بیوی سارہ تھیں اور ان کے بھتیجے لوط۔ بعد کو اس قافلہ میں ان کے دو بیٹے اسماعیل اور اسحاق شامل ہوئے۔ حضرت مسیح کو ساری کوشش کے بعد بارہ آدمی ملے، وہ بھی آخر وقت میں آپ کو چھوڑ کر بھاگ گئے (متی، 26:56)۔ بیشتر انبیاء کا حال یہی رہا ہے۔ کوئی تنہا رہ گیا۔ کسی کو چند ساتھ دینے والے ملے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader