Urdu book · پیغمبرِ انقلاب

آدم سے مسیح تک

Urdu book, p. 15

By Maulana Wahiduddin Khan

(صحیح البخاری، حدیث نمبر 5752 )۔ ان چند میں بھی زیادہ تر ان کے اپنے خاندان تھے جن سے رشتے کا تعلق نبی کا ساتھ دینے کے لیے ایک اضافی محرک بن گیا۔ قرآن کی یہ آیت اس پوری تاریخ پر ایک تبصرہ ہے: یَا حَسْرَةً عَلَى الْعِبَادِ مَا يَأْتِيْهِمْ مِنْ رَسُوْلٍ إِلَّا كَانُوا بِهِ يَسْتَهْزِءُوْنَ (36:30) ۔ یعنی، افسوس ہے بندوں کے حال پر جب بھی ان کے پاس کوئی رسول آیا تو انہوں نے اس کی ہنسی اڑائی۔ انسانی نسل میں خدا کے نزدیک سب سے اہم ہستیاں وہ ہیں جن کو پیغمبر کہا جاتا ہے۔ مگر عجیب بات ہے کہ ساری انسانی تاریخ میں یہی لوگ سب سے زیادہ غیر اہم رہے ہیں۔ بادشاہوں اور سپہ سالاروں کے واقعات تاریخ نے مکمل طور پر ضبط کیے۔ مگر آدم سے مسیح تک کوئی نبی ایسا نہیں جس کو باقاعدہ طور پر مدوّن تاریخ میں جگہ ملی ہو۔ ارسطو (322-384 ق م) حضرت موسیٰ کے ہزار برس بعد پیدا ہوا۔ مگر وہ موسیٰ کے نام سے بھی واقف نہ تھا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اکثر انبیاء کو ان کی قوم نے رد کر دیا۔ ان کے گھروں کو اجاڑا گیا، ان کو معاشرہ میں بے قیمت کر کے رکھ دیا گیا، ان کو ایسا بنا دیا گیا کہ یاوہ اتنے غیر اہم لوگ ہیں جن کا ذکر کرنے کی بھی ضرورت نہیں۔ نبیوں کے ساتھ یہ سلوک کیوں کیا گیا۔ اس کی وجہ صرف ایک ہے: اپنی مخاطب قوموں کی روش پر تنقید۔ انسان کو سب سے زیادہ جو چیز محبوب ہے، وہ ہے اپنی تعریف، اور جو چیز سب سے زیادہ مبغوض ہے، وہ ہے اپنے خلاف تنقید۔ انبیاء چونکہ صحیح اور غلط کو بتانے کے لیے آتے ہیں، وہ اپنے ہم قوموں سے مصالحت نہیں کرتے۔ وہ ان کی اعتقادی اور عملی غلطیوں کی نشان دہی کرتے ہیں۔ اس لیے قوم ان کی مخالف بلکہ دشمن ہو جاتی ہے۔ انبیاء اگر لوگوں کی دل پسند تقریریں کرتے تو کبھی ان کو اس صورت حال سے دوچار ہونا نہ پڑتا۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page