Urdu book · پیغمبرِ انقلاب

ختم نبوت

Urdu book, p. 246

By Maulana Wahiduddin Khan

ختم نبوت بعثت کے ابتدائی زمانہ کا واقعہ ہے۔ کسی عرب قبیلہ کا ایک شخص کعبہ کی زیارت کے لیے مکہ آیا۔ وہ جب واپس گیا تو اس کے قبیلہ والوں نے پوچھا، مکہ کی کوئی خبر بتاؤ۔ اس نے جواب دیا: تنبأ محمد بن عبد الله و تبعا ابن أبي قحافة (محمد بن عبد اللہ نے نبی ہونے کا دعویٰ کیا ہے اور ابو قحافہ کا لڑکا ان کا ساتھ دے رہا ہے) البدء والتاريخ، جلد 5، صفحہ 82۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ 610ء میں جب آپ نے نبوت کا اعلان فرمایا، اس وقت لوگوں کے ذہن میں آپ کی تصویر کیا تھی۔ آپ کے مخالفین اس زمانہ میں آپ کو ابن ابی کبشہ کہتے تھے، جس کا مطلب ہوتا تھا: فلاں دیہاتی کا لڑکا۔ کوئی زیادہ شریف زبان بولنا چاہتا کہتا: فتی من قريش، یعنی قبیلہ قریش کا ایک جوان۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ حال اپنے زمانہ میں تھا۔ مگر صدیاں گزرنے کے بعد اب صورت حال بالکل مختلف ہے۔ کیوں کہ اب آپ کی نبوت کوئی نزاعی مسئلہ نہیں۔ اب وہ ایک تسلیم شدہ واقعہ (Established Facts) کی حیثیت اختیار کر چکی ہے۔ آج جب ایک شخص کہتا ہے’’محمد رسول اللہ‘‘ تو اس کے ذہن میں ایک ایسے پیغمبر کا تصور ہوتا ہے جس کے گرد ایک عظیم الشان تاریخ بن چکی ہے، جس کی پشت پر ڈیڑھ ہزار برس کی تصدیقی عظمتیں قائم ہیں۔ اگر ایسا ہو کہ یہ تاریخ مکمل طور پر آپ سے الگ کردی جائے اور نبی عربی دوبارہ’’ابن ابی کبشہ‘‘ کی صورت میں ظاہر ہوں تو اس میں ذرا بھی شک نہیں کہ آپ پر ایمان لانے والوں کی تعداد جو آج کروروں میں گنی جاتی ہے، صرف درجنوں تک محدود ہو کر رہ جائے گی۔ ’’ابن ابی کبشہ‘‘ کے حلیہ میں رسول خدا کو پہچان لینا انتہائی مشکل کام ہے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page