ختم نبوت
Urdu book, p. 247
By Maulana Wahiduddin Khan
جب کہ یہی کام اس وقت انتہائی آسان ہو جاتا ہے جب رسول ایک مسلمہ تاریخی حیثیت یا قرآن کے لفظوں میں مقام محمود (الاسراء، 17:79) کا درجہ حاصل کر چکا ہو۔ پچھلے ادوار میں نبیوں کے ہم زمانہ لوگوں کے لیے نبی کا انکار کرنے کی سب سے بڑی نفسیاتی وجہ یہی تھی۔” یہ تو وہی معمولی شخص ہے جس کو اب تک ہم فلاں بن فلاں کے نام سے جانتے تھے، وہ اچانک خدا کا پیغمبر کیسے ہو گیا۔ “ جب بھی کوئی نبی اٹھتا، یہ خیال ایک قسم کا شک اور تردد بن کر ان کے اوپر چھا جاتا، اور نبی کی پیغمبرانہ حیثیت کو پہچاننے کے معاملہ کو اس کے معاصرین کے لیے مشکل بنا دیتا۔ یہ صورت حال، خاتم النبیین کے ظہور سے پہلے، انسانیت کو مسلسل ایک کڑی آزمائش میں مبتلا کیے ہوئے تھی۔ ہر بار ان کے اندر سے ایک نیا شخص خدا کے رسول کی حیثیت سے اٹھتا۔ مخاطب قوم کی اکثریت، مذکورہ نفسیاتی رکاوٹ کی وجہ سے، اپنے ہم عصر نبی کے بارے میں شک اور تردد میں پڑ کر انکار کر دیتی اور بالآخر سنت اللہ کے مطابق ہلاک کر دی جاتی۔ اب اللہ تعالیٰ نے فیصلہ کیا کہ وہ ایک ایسا نبی بھیجے جو ساری دنیا کے لیے رحمت کا دروازہ کھول دے۔ اس کی ذات پچھلے پیغمبروں کی طرح لوگوں کو اس آزمائش میں نہ ڈالے کہ ” معلوم نہیں یہ واقعی پیغمبر ہے یا شخصی حوصلہ مندی نے اس کو اس قسم کے دعوے پر آمادہ کر دیا ہے۔ “ اس کی نبوت ہر دور کے لوگوں کے لیے ایک مسلمہ واقعہ کی حیثیت رکھتی ہو۔ لوگ کسی نفسیاتی پیچیدگی میں مبتلا ہوئے بغیر اس کی ” محمودیت “ کی وجہ سے اس کو پہچان لیں اور اس پر ایمان لا کر خدا کی رحمتوں میں حصہ دار بنیں۔ متعدد روایتوں سے معلوم ہوتا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میری امت کے افراد تمام دوسرے انبیاء کی امتوں سے زیادہ ہوں گے (صحیح البخاری، حدیث نمبر 4981)۔ اس کا تعلق بھی اسی مسئلہ سے ہے۔ آپ کے بعد چونکہ کوئی نبی آنے والا نہیں ۔ اس لیے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader