Urdu book · پیغمبرِ انقلاب

آپ کا معجزہ قرآن

Urdu book, p. 256

By Maulana Wahiduddin Khan

انیسویں صدی کے آخر تک نئے عہد نامہ میں کم از کم 550 الفاظ (کل متن کا 12 فی صد) ایسے تھے جن کے معانی معلوم نہ تھے۔ انیسویں صدی میں ایک جرمن عالم اڈولف ڈیزمین (Adolf Deissmann) نے مصر میں بعض قدیم تحریریں پائیں۔ ان کے مطالعہ کے بعد اس نے قیاس کیا کہ ’’بیلیکل گریک‘‘ دراصل قدیم یونانی زبان کی غیر علمی بولی تھی جو پہلی صدی عیسوی میں فلسطین کے عوام میں رائج تھی۔ اس نے مذکورہ نا معلوم الفاظ کے کچھ معانی متعین کیے۔ تاہم اب بھی یونانی انجیل میں 150 الفاظ (کل متن کا ایک فی صد) ایسے ہیں جن کے معانی ابھی تک نا معلوم ہیں۔ Xavier Leon-Dufour S.J. The Gospels and the Jesus of History Desclee Co. Inc. New York 1970, pp. 79-80 ارنسٹ ریناں (1892-1823ء) نے عربی زبان کا مطالعہ کرتے ہوئے اپنی کتاب اللغات السامیہ میں لکھا ہے: ’’انسانی تاریخ کا سب سے زیادہ حیرت انگیز واقعہ عربی زبان ہے۔ یہ زبان قدیم تاریخ میں ایک غیر معروف زبان تھی۔ پھر اچانک وہ ایک کامل زبان کی حیثیت سے ظاہر ہوئی۔ اس کے بعد سے اس میں کوئی قابلِ ذکر تبدیلی نہ ہوسکی حتی کہ اس کا نہ کوئی بچپن ہے اور نہ بڑھاپا ۔ وہ اپنے ظہور کے اول دن جیسی تھی ویسی ہی آج بھی ہے۔‘‘ قرآن کی زبان کے بارے میں فرانسیسی مستشرق کا یہ اعتراف دراصل اعجاز قرآن کا اعتراف ہے۔ کیونکہ حقیقۃً یہ قرآن کا معجزاتی ادب ہی ہے جس نے عربی زبان کو تبدیلی کے اس عام تاریخی قانون سے مستثنیٰ رکھا جس سے دوسری تمام زبانیں متاثر ہوئی ہیں۔ مسیحی عالم جرجی زیدان (1914-1861) نے اس کا اعتراف ان لفظوں میں کیا ہے: ’’وبالجملة فان القرآن تاثیر فی آداب اللغة العربية ليس لكتاب ديني مثله فى اللغات الاخرى (تاریخ آداب اللغات العربیه، صفحہ 393)۔ یعنی، مختصر یہ کہ

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page