پیغمبرِ انقلاب
Urdu book, p. 257
By Maulana Wahiduddin Khan
عربی زبان کے ادب پر قرآن نے ایسا غیر معمولی اثر ڈالا ہے جس کی مثال کسی اور دینی کتاب کی دوسری زبانوں میں نہیں ملتی۔‘‘ یہ ایک حقیقت ہے کہ دنیا کی تمام زبانیں تبدیلی کا شکار رہی ہیں۔ حتی کہ کسی زبان کا آج کا ایک عالم اس زبان کی چند سو برس پہلے کی کتاب کو لغت اور شرح کی مدد کے بغیر سمجھ نہیں سکتا۔ اس تبدیلی کے اسباب عام طور پر دو قسم کے رہے ہیں۔ ایک، اجتماعی انقلاب، دوسرے، ادبی ارتقاء۔ عربی زبان کے ساتھ پچھلی صدیوں میں یہ دونوں واقعات اسی شدت کے ساتھ پیش آئے جس طرح کسی دوسری زبان کے ساتھ پیش آسکتے ہیں۔ مگر وہ اس زبان کے لسانی ڈھانچے میں کوئی تبدیلی نہ کرسکے۔ عربی زبان اب بھی وہی زبان ہے جو چودہ سو برس پہلے نزول قرآن کے وقت مکہ میں بولی اور سمجھی جاتی تھی۔ ہومر (م 850 ق م) کی الیڈ، تلسی داس (م 1623ء) کی رامائن اور شیکسپیر (1616-1564ء) کے ڈرامے انسانی ادب کا شاہکار سمجھے جاتے ہیں اور زمانہ تالیف سے لے کر اب تک مسلسل پڑھے جاتے رہے ہیں۔ مگر وہ ان زبانوں کو اپنی ابتدائی شکل میں محفوظ نہ رکھ سکے جن میں وہ لکھے گئے تھے۔ ان کی زبانیں اب کلاسیکس کی زبانیں ہیں نہ کہ زندہ زبانیں۔ زبانوں کی تاریخ میں قرآن واحد مثال ہے جو مختلف قسم کے علمی اور سیاسی انقلابات کے باوجود اپنی زبان کو مسلسل اسی حالت پر باقی رکھے ہوئے ہے جس حالت پر وہ نزول قرآن کے وقت تھی۔ انسانی سماج کی کوئی بھی تبدیلی اُس میں تبدیلی کا باعث نہ بن سکی۔ یہ واقعہ قرآن کے ایک برتر کلام ہونے کا یقینی ثبوت ہے۔ پچھلے ڈیڑھ ہزار برس کی تاریخ نے قطعی طور پر ثابت کر دیا ہے کہ قرآن ایک معجزہ ہے، اس کے بعد اعجاز قرآن کے لیے مزید کسی ثبوت کی ضرورت نہیں۔ اجتماعی انقلابات اجتماعی انقلابات کس طرح زبانوں پر اثر انداز ہوتے ہیں، اس کو سمجھنے کے لیے لاطینی

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader