Urdu book · پیغمبرِ انقلاب

مثالی کردار

Urdu book, p. 25

By Maulana Wahiduddin Khan

25 سال کی عمر میں جب آپ نے شادی کی تو اس موقع پر آپ کے چچا ابو طالب نے نکاح کا خطبہ پڑھتے ہوئے کہا تھا: إِنَّ ابْنَ أَخِي هَذَا مُحَمَّد بن عبد الله لا يُوزن به رجل إلا رجح به برا و فضلا و كرما و عقلا و مجدا ونبلا ... و هُوَ وَ اللَّه بعد هَذَا لَهُ بِنَاء عَظِيم و خطر جليل (جامع الآثار لابن ناصر الدین الدمشقی، جلد 3، صفحہ 460)۔ یعنی، میرے بھتیجے محمد بن عبد اللہ کا مقابلہ جس شخص سے بھی کیا جائے، وہ نیکی، شرافت، نجابت، بزرگی اور عقل میں اس سے بڑھ جائے گا... خدا کی قسم اس کا مستقبل عظیم ہوگا، اور اس کا رتبہ بلند ہوگا۔ ابو طالب نے یہ الفاظ ان معنوں میں نہیں کہے تھے جن معنوں میں بعد کو تاریخ نے اسے سچا ثابت کیا۔ انہوں نے یہ بات تمام تر دنیوی معنوں میں کہی تھی۔ ان کا مطلب یہ تھا کہ جو شخص فطرت سے وہ پرکشش شخصیت لے کر پیدا ہوا ہو، جو محمد بن عبد اللہ میں نظر آتی ہے، وہ بہر حال قوم کے اندر معزز مقام حاصل کرتا ہے اور دنیا کے بازار میں اس کی بڑی قیمت مل کر رہتی ہے۔ ایسے شخص کی اعلی صلاحیتیں اس کی ترقی اور کامیابی کی یقینی ضمانت ہیں۔ پیغمبر اسلام کے لیے یہ امکانات، بلاشبہ، پوری طرح موجود تھے۔ آپ اپنی صلاحیتوں کی بڑی سے بڑی دنیوی قیمت وصول کر سکتے تھے۔ آپ مکہ کے ایک اونچے خاندان میں پیدا ہوئے۔ اگرچہ آپ کو اپنے باپ سے وراثت میں صرف ایک اونٹنی اور ایک خادمہ ملی تھی ۔ مگر آپ کی شاندار پیدائشی خصوصیات نے مکہ کی سب سے امیر خاتون کو متاثر کیا۔ 25 سال کی عمر میں ان سے آپ کا نکاح ہو گیا۔ یہ ایک تاجر خاندان کی بیوہ تھیں ۔ ان سے آپ کو نہ صرف مال اور جائداد ملی، بلکہ عرب میں اور عرب کے باہر تجارت کا زبردست میدان بھی ہاتھ آیا۔ اب آپ کے لیے ایک پرسکون اور کامیاب زندگی بنانے کے سارے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page