Urdu book · پیغمبرِ انقلاب

مثالی کردار

Urdu book, p. 24

By Maulana Wahiduddin Khan

مثالی کردار پیغمبر اسلام حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم 22 ، اپریل 571 ء کو عرب میں پیدا ہوئے اور 8 ، جون 632 ء کو آپ کی وفات ہوئی۔ آپ نہایت تندرست اور طاقت ور تھے۔ بچپن سے یہ حال تھا کہ جو دیکھتا، کہہ اٹھتا: إن لهذا الغلام لشأناً (الوفا لابن الجوزی، صفحہ 57)۔ بڑے ہوئے تو آپ کی شخصیت اور زیادہ نمایاں ہوگئی۔ آپ کو دیکھنے والے آپ سے مرعوب ہو جاتے۔ اسی کے ساتھ اتنے نرم اور شیریں زبان تھے کہ تھوڑی دیر بھی جو شخص آپ کے قریب رہتا، آپ سے محبت کرنے لگتا۔ برداشت، سچائی، معاملہ فہمی، حسن سلوک آپ کے اندر کامل درجہ میں پایا جاتا تھا۔ خلاصہ یہ کہ آپ اس انسانی بلندی کی اعلیٰ ترین مثال تھے جس کو نفسیات کی اصطلاح میں متوازن شخصیت (balanced personality) کہا جاتا ہے۔ داؤد بن حصین کا بیان ہے: قالُوا شب رَسُول الله صلى الله الله عَلَيْهِ وَسلم أفضل قومه مروة وَأَحْسَنهم خلقا وَأَكْرَمهم مُخَالَطَة وَأَحْسَنهم جوارا وأعظمهم حلما وأمانة وأصدقهم حديثا وأبعدهم من الفحش والأذى ما رُؤي ممَارِيا وَلا ملاحيا احدا حَتَّى سَمَّاه قومه الأمين (الخصائص الکبری للسیوطی، جلد 1، صفحہ 153)۔ یعنی عرب کے لوگ عام طور پر یہ کہتے سنے جاتے تھے کہ محمد بن عبداللہ اس شان سے جوان ہوئے کہ آپ اپنی قوم میں سب سے زیادہ با اخلاق، پڑوسیوں کی خبر گیری کرنے والے، حلیم و بردبار، صادق و امین، جھگڑے سے دور رہنے والے، فحش گوئی و دشنام طرازی سے پرہیز کرنے والے تھے۔ اسی وجہ سے آپ کی قوم نے آپ کا نام’’الامین‘‘ رکھا تھا۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page