مثالی کردار
Urdu book, p. 27
By Maulana Wahiduddin Khan
زندگی کا راز معلوم نہ کر لیں۔ آپ جاننا چاہتے تھے کہ ان ظاہری چیزوں سے اوپر اگر کوئی حقیقت ہے تو وہ کیا ہے۔ نفع نقصان اور آرام و تکلیف کی اصطلاوں میں سوچنے کے بجائے آپ اس سوال کو حل کرنے میں منہمک رہتے کہ حق کیا ہے اور ناحق کیا۔ پیغمبر اسلام کی زندگی کا یہی وہ پہلو ہے جس کو قرآن میں ان لفظوں میں بیان کیا گیا ہے: وَوَجَدَكَ ضَالًّا فَهَدَى (93:7) ۔ یعنی اور تم کو متلاشی (seeker) پایا تو اس نے تم کو راہ دکھائی۔ ضالّ کے معنی ہیں راہ بھولا ہوا، سرگرداں۔ جیسا کہ آپ کے بچپن کے بارے میں تفسیر میں آیا ہے: ضَلَّ فِي شِعَابِ مَكَّةَ وَهُوَ صَغِيرٌ، ثُمَّ رَجَعَ (تفسیر ابن کثیر، جلد 8، صفحہ 426) ۔ یہ لفظ اس مسافر کے لیے بولا جاتا ہے جو راستہ سے بھٹک گیا ہو اور حیران و پریشان مختلف راستوں کو دیکھ رہا ہو، اس کی سمجھ میں نہ آتا ہو کہ کدھر جائے۔ اسی لیے اس درخت کو ضالّہ کہتے ہیں جو صحرا میں اکیلا کھڑا ہو اور اس کے آس پاس کوئی دوسرا درخت نہ ہو۔ اسی سے کہا جاتا ہے: ضَلَّ الماءُ فِي اللَّبَنِ، إِذا غَابَ (تہذیب اللغۃ للاہری، جلد 11، صفحہ 320) ۔ یعنی پانی دودھ میں کھو گیا۔ آیت کا مطلب یہ ہے کہ آپ جاہلیت کے بیابان میں اکیلے درخت کی طرح کھڑے ہوئے تھے۔ صحراؤں اور پہاڑوں میں یہ غم لیے پھرتے تھے کہ سچائی کیا ہے جس کو میں اپناؤں۔ دنیا کے مروجہ نقشوں میں اپنی جگہ بنانے کے بجائے حیران و متفکر ہو کر الگ تھلگ جا پڑے تھے۔ سچائی سے کمتر کوئی چیز آپ کی روح کے لیے تسکین کا ذریعہ نہیں بن سکتی تھی۔ حتیٰ کہ آپ کی تلاشِ حق کی سرگردانی اس نوبت کو پہنچ گئی تھی کہ زندگی آپ کے لیے ایک ایسا بوجھ بن گئی جو آپ کی کمر توڑ دے رہی تھی (الم نشرح، 3-94:2)۔ اس وقت اللہ کی رحمت آپ کی طرف متوجہ ہوئی۔ آپ کے لیے ہدایت اور روشنی کے دروازے کھول دیے گئے۔ 12 فروری 610 کو جب کہ آپ حرا میں تنہا بیٹھے ہوئے تھے،

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader