مثالی کردار
Urdu book, p. 28
By Maulana Wahiduddin Khan
خدا کا فرشتہ انسان کی صورت میں آپ کے سامنے ظاہر ہوا اور خدا کی طرف سے آپ کو وہ کلمات سکھائے جو قرآن کی سورہ نمبر 96 کی ابتدا میں درج ہیں۔ آپ کی تلاش نے بالآخر اپنا جواب پالیا۔ پیغمبرِ اسلام کی بے چین روح کارِ ربِ العالمین سے قائم ہو گیا۔ خدا نے آپ کو نہ صرف ہدایت دی بلکہ اپنے نمائندۂ خاص کی حیثیت سے چن لیا۔ آپ کے اوپر خدا کا کلام اتر نے لگا۔ آپ کی نبوت کی یہ مدت 23 سال تک پھیلی ہوئی ہے۔ اس مدت میں خدا کی کتاب (قرآن) مکمل طور پر آپ کے اوپر اتاری گئی۔ پیغمبرِ اسلام نے اپنی مشکل زندگی کے چالیسویں سال میں سچائی دریافت کر لی۔ مگر یہ سچائی آپ کے لیے کوئی آسان سودا نہ تھی۔ اس سچائی کا مطلب یہ تھا کہ آدمی ایک عظیم تر خدا کی زد میں ہے۔ یہ اپنے عجز کے مقابلہ میں خدا کی کبریائی کی دریافت تھی۔ یہ خدا کے اثبات کے مقابلہ میں اپنی نفی کا پتا لگانا تھا۔ یہ اس راز کو معلوم کرنا تھا کہ اس دنیا میں بندۂ مومن کی صرف ذمہ داریاں ہی ذمہ داریاں ہیں، یہاں اس کا کوئی حق نہیں ہے۔ سچائی کی دریافت کے بعد، پیغمبرِ اسلام کے لیے، زندگی کے معنی کیا تھے ۔ اس کا اندازہ کرنے کے لیے یہاں صرف ایک حدیث نقل کی جاتی ہے۔ آپ نے ایک بار فرمایا: أَمَرَنِي رَبِّي بِتِسْعٍ : خَشْيَةِ اللَّهِ فِي السِّرِّ وَالْعَلَانِيَةِ وَكَلِمَةِ الْعَدْلِ فِي الْغَضَبِ وَالرِّضَى وَالْقَصْدِ فِي الْفَقْرِ وَالْغِنَى وَأَنْ أَصِلَ مَنْ قَطَعَنِي وَأُعْطِيَ مَنْ حَرَمَنِي وَأَعْفُوَ عَمَّنْ ظَلَمَنِي وَأَنْ يَكُونَ صَمْتِي فِكْرًا وَنَطْقِي ذِكْرًا وَنَظْرِي عِبْرَةً (رواه رزین، بحواله جامع الاصول، حدیث نمبر 9317)۔ یعنی میرے رب نے مجھے نو باتوں کا حکم دیا ہے — کھلے اور چھپے ہر حال میں خدا سے ڈرتا رہوں ، غصہ میں ہوں یا خوشی میں، ہمیشہ انصاف کی بات کہوں، محتاجی اور امیری دونوں حالتوں میں

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader