مال لٹانا
Urdu book, p. 281
By Maulana Wahiduddin Khan
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب قرآن میں یہ آیت اتری کہ کون ہے جو اللہ کو قرض حسن دے تو حضرت ابو دحاح انصاری نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا: اے خدا کے رسول، کیا اللہ واقعی ہم سے قرض چاہتا ہے۔ آپ نے فرمایا ہاں اے ابو دحاح۔ انہوں نے کہا اے خدا کے رسول، اپنا ہاتھ لائیے۔ راوی کہتے ہیں کہ آپ نے اپنا ہاتھ ان کے ہاتھ میں دیا۔ ابو دحاح نے کہا کہ میں نے اپنا باغ اپنے رب کو قرض میں دے دیا۔ ان کا ایک کھجوروں کا باغ تھا جس میں چھ سو درخت تھے۔ اس وقت ان کی بیوی ام دحاح اپنے بچوں کے ساتھ باغ میں تھیں۔ وہ باغ میں واپس آئے اور آواز دی کہ اے ام دحاح۔ انہوں نے کہا ہاں۔ ابو دحاح نے کہا باغ سے نکلو، کیونکہ اس کو میں نے اپنے رب کو قرض میں دے دیا۔ بیوی نے کہا: اے ابو دحاح آپ کی تجارت کامیاب رہی۔ اور اس کے بعد اپنے سامان اور اپنے بچوں کو لے کر باغ سے نکل آئیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ابو دحاح کے لیے جنت میں کتنے ہی شاداب اور پھل دار درخت ہیں۔ یہ ایک نمائندہ واقعہ ہے جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ صحابہ کرام جس دین پر ایمان لائے تھے اس دین کی خاطر قربانی پیش کرنے کے لیے وہ کس قدر بے چین رہتے تھے۔ یہاں دوبارہ ذہن میں رکھ لیجیے کہ یہ واقعہ چودہ سو سال پہلے کا ہے۔ آج کوئی شخص دین کے نام پر اس قسم کا انفاق کرے تو عین ممکن ہے کہ لاکھوں مسلمانوں کے درمیان مقبولیت کی صورت میں اس کو بہت جلد اپنے انفاق سے زیادہ بڑی چیز مل جائے ۔ مگر اصحاب رسول کے زمانے میں صورت حال بالکل مختلف تھی۔ اس وقت دین کی راہ میں اپنا مال لٹانا ماحول میں دیوانگی کا خطاب پانے کا ذریعہ تھا۔ وہ اونچے میناروں پر نمایاں ہونے کے بجائے بنیاد کی زمین میں دفن ہونے کے ہم معنی تھا۔ اس وقت ایسا اقدام ایک ایسی تحریک کے خانہ میں لکھا جانے والا تھا جس کی صداقت ابھی مشتبہ تھی جس کی پشت پر تاریخ کی تصدیقات

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader