پیغمبرِ انقلاب
Urdu book, p. 280
By Maulana Wahiduddin Khan
آدم شاعری چھوڑ کر یہ جملہ کہے تو اس کو زبردست عظمت اور مقبولیت حاصل ہوگی۔ مگر لبید کے قول میں آج کے شاعر کے قول میں کوئی نسبت نہیں۔ کیونکہ آج کا شاعر تاریخ کے اختتام پر یہ جملہ کہہ رہا ہے جب کہ لبید نے تاریخ کے آغاز پر یہ جملہ کہا تھا۔ یہی وہ حقیقت ہے جو قرآن میں ان لفظوں میں بیان کی گئی ہے: لَايَسْتَوِي مِنْكُمْ مَّنْ اَنْفَقَ مِنْ قَبْلِ الْفَتْحِ وَقُتَلَ اُوْلَبِكَ أَعْظَمُ دَرَجَةً مِّنَ الَّذِينَ اَنْفَقُوا مِنْ بَعْدُ وَقُتِلُوا (57:10)۔ یعنی تم میں سے جو لوگ فتح کے بعد خرچ اور جہاد کریں وہ ان لوگوں کے برابر نہیں ہو سکتے جنہوں نے فتح سے پہلے خرچ اور جہاد کیا۔ ان کا درجہ بعد میں خرچ اور جہاد کرنے والوں سے بہت زیادہ ہے۔ غیر قائم شدہ صداقت کے لیے مال لٹانا ابن ابی حاتم نے ایک صحابی کا واقعہ ان الفاظ میں نقل کیا ہے: عن عبد الله بن مسعود لمّا نزلتْ هَذِهِ الآيَةُ مَنْ ذا الَّذِي يُقْرِضُ اللَّهَ قَرْضاً حَسَناً فَيُضَاعِفَهُ لَهُ قَالَ أَبُو الدَّحْدَاحِ الْأَنْصَارِيُّ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَإِنَّ اللَّهَ لَيُرِيدُ مِنَّا الْقَرْضَ ؟ قَالَ : نَعَمْ يَا أَبَا الدَّحْدَاحِ قَالَ : أَرِنِي يَدَكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ. قَالَ : فَنَاوَلَهُ يَدَهُ. قَالَ: فَإِنِّي قَدْ أَقْرَضْتُ رَبِّي حَائِطِي، وَلَهُ حَائِطُ فِيهِ سِتُّمِائَةِ نَخْلَةٍ، وَأُمُّ الدَّحْدَاحِ فِيهِ وَعِيَالُهَا. قَالَ: فَجَاءَ أَبُو الدَّحْدَاحِ فَنَادَاهَا يَا أُمَّ الدَّحْدَاحِ. قَالَتْ : لَبَّيْكَ، قَالَ: اخْرُجِي فَقَدْ أَقْرَضْتُهُ رَبِّي عَزَّ وَجَلَّ (تفسیر ابن ابی حاتم، حدیث نمبر 2430) - وفي رواية: أَنَّهَا قَالَتْ لَهُ: رَبِحَ بَيْعُكَ يَا أَبَا الدَّحْدَاحِ. وَنَقَلَتْ مِنْهُ مَتَاعَهَا وَصِبْيَانَهَا وَإِنَّ رسول الله صلى الله عليه وسلم قال : كَمْ مِنْ عَذْقٍ رَدَاحٍ فِي الْجَنَّةِ لِأَبِي الدَّحْدَاحِ (تفسیر ابن کثیر، جلد 8 ، صفحہ 48)۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader