پیغمبرِ انقلاب
Urdu book, p. 283
By Maulana Wahiduddin Khan
کوان کے اہلِ وطن نے نکال دیا تھا۔ جن کے ساتھ قومی عصبیت اور تاریخی عظمت شامل نہ ہوئی تھی۔ جو نہ صرف متنازع شخصیت تھے بلکہ ایک لٹے ہوئے بے گھر انسان تھے۔ جن کو اپنا سب کچھ دے دینا تھا اور ان سے پانا کچھ بھی نہ تھا۔ بیسویں صدی میں کسی برنارڈشا کے لیے بہت آسان ہے کہ وہ پیغمبرِ اسلام کے لیے یورپ کی سرداری کی پیش کش کرے۔ مگر چھٹی صدی عیسوی میں کسی کے لیے اس کا تصور بھی ناممکن تھا کہ وہ آپ کو پیغمبر مان کر آپ کو اپنا اجتماعی امام بنا لے۔ اپنی محدودیت کو جاننا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا طریقہ تھا کہ جب بھی کوئی معاملہ پیش آتا تو آپ اس کے بارے میں لوگوں سے مشورہ کرتے۔ آپ اپنے اصحاب کو جمع کرتے اور معاملہ کو بیان کر کے فرماتے کہ أَشِيرُوا عَلَيَّ أَيُّهَا النَّاسُ (اے لوگو، مجھے مشورہ دو)۔ آپ بظاہر سب سے مشورہ طلب کرتے۔ مگر عملاً یہ ہوتا کہ کچھ دیر خاموشی رہتی اور اس کے بعد حضرت ابوبکر کھڑے ہو کر مختصر اپنی رائے ظاہر کر کے بیٹھ جاتے۔ اس کے بعد حضرت عمر کھڑے ہوتے اور مختصر کچھ بول کر بیٹھ جاتے۔ اس کے بعد معمولی طور پر کچھ لوگ بولتے اور اتفاق رائے سے فیصلہ ہو جاتا۔ آپ کی وفات کے بعد جب حضرت ابوبکر کی خلافت کا زمانہ آیا تو آپ بھی اسی طرح لوگوں کو جمع کر کے مشورہ کرتے، اب یہ ہوتا کہ کچھ دیر خاموشی کے بعد حضرت عمر کھڑے ہوتے اور مختصر طور پر اپنی رائے ظاہر کر کے بیٹھ جاتے، اس کے بعد چند لوگ بولتے اور اتفاق رائے سے فیصلہ ہو جاتا۔ حضرت عمر کے بعد غیر اصحاب کی تعداد بڑھ گئی اور مذکورہ صورت باقی نہ رہی۔ یہ بظاہر ایک سادہ سی بات ہے، مگر یہ اتنی اہم بات ہے کہ تاریخ میں کوئی دوسرا معاشرہ نہیں پایا جاتا جس نے اس کا ثبوت دیا ہو۔ یہ طرزِ عمل صرف اس وقت ممکن ہوتا ہے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader