Urdu book · پیغمبرِ انقلاب

پیغمبرِ انقلاب

Urdu book, p. 284

By Maulana Wahiduddin Khan

جب کہ آدمی اتنا خود شناس ہو جائے کہ وہ اپنی کمیوں اور محدود یتوں کو جاننے لگے۔ وہ دوسرے کے’’ہے‘‘کے مقابلہ میں اپنے’’نہیں‘‘سے واقف ہو جائے۔ وہ اپنے کو اس حقیقت پسندانہ نظر سے دیکھنے لگے جس نظر سے دوسرا شخص اسے دیکھ رہا ہے۔ اس میں اتنا اور اضافہ کر لیجیے کہ یہ واقعہ جس ابو بکر و عمر کے ساتھ پیش آیا وہ ابو بکر و عمر وہ نہ تھے جن کو آج ہم جانتے ہیں، آج ہم تکمیل تاریخ والے ابو بکر و عمر کو جانتے ہیں۔ مگر وہ آغاز تاریخ والے ابو بکر و عمر کو جانتے تھے۔ اس وقت وہ اپنے معاصرین کے لیے صرف ان میں سے ایک تھے۔ جب کہ آج وہ ہمارے لیے گزری ہوئی تاریخ کے ستون ہیں جن کو ہم اس طرح دیکھتے ہیں جیسے کوئی ثابت شدہ واقعہ کو دیکھتا ہے۔’’ابو بکر و عمر‘‘کو تاریخ بننے کے بعد جاننا انتہائی آسان ہے۔ لیکن’’ابو بکر و عمر‘‘کو تاریخ بننے سے پہلے جاننا اتنا ہی مشکل ہے۔ اصحاب رسول وہ لوگ تھے جو اس مشکل ترین معیار پر پورے اترے۔ ذمہ داری کو اپنے اوپر لے لینا غزوہ ذات السلاسل کا واقعہ ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اولاً ایک دستہ حضرت عمرو بن العاص کی سرداری میں بھیجا۔ یہ جگہ شام کے اطراف میں تھی۔ حضرت عمرو بن العاص نے وہاں پہنچ کر دشمن کی تیاریوں کا حال معلوم کیا تو اپنا دستہ انہیں اس کے لیے ناکافی معلوم ہوا۔ انہوں نے ایک مقام پر ٹھہر کر رسول اللہ کے پاس پیغام بھیجا کہ موجودہ فوج ناکافی ہے، مزید کمک روانہ کی جائے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مہاجرین میں سے دوسو آدمیوں کا دستہ تیار کیا اور حضرت ابو عبیدہ بن الجراح کی سرکردگی میں اس کو روانہ فرمایا۔ حضرت ابو عبیدہ جب اپنے دستہ کو لے کر منزل پر پہنچے اور دونوں دستے ساتھ ہو گئے تو یہ سوال پیدا ہوا کہ دونوں دستوں کا امیر کون ہو۔ حضرت عمرو بن العاص نے کہا کہ دوسرا دستہ میری مدد کے لیے بھیجا گیا ہے اس لیے اصلاً میں ہی دونوں کا امیر ہوں۔ حضرت ابو عبیدہ کے ساتھی

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page