Urdu book · پیغمبرِ انقلاب

غیر جذباتی فیصلہ کرنے کی طاقت

Urdu book, p. 292

By Maulana Wahiduddin Khan

کو اس کے حق کے ساتھ لیتا ہوں۔ چنانچہ آپ نے انہیں تلوار دے دی۔ حضرت ابو دجانہ تلوار لے کر چلے۔ اس وقت ان پر ایسی کیفیت طاری ہوئی کہ وہ اکڑ کر چلنے لگے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ دیکھ کر فرمایا کہ اس قسم کی چال خدا کو پسند نہیں سوا ایسے موقع کے ( اِنَّھَا لَمِشْیَة یَبْغُضُھَا اِنه، اِلَّا فِيْ مِثْلِ ھَذَا الْمَوْطِنِ ) سیرت ابن ہشام ، جلد 2، صفحہ 66۔ ابو دجانہ نے اپنے سر پر لال کپڑا باندھ لیا۔ یہ اس بات کی علامت تھی کہ وہ موت سے نڈر ہو کر جنگ کے لیے نکل پڑے ہیں۔ وہ انتہائی بہادری کے ساتھ لڑرہے تھے۔ جو بھی ان کے سامنے آتا وہ ان کی تلوار کا نشانہ بن جاتا۔ اس کے بعد ایک حیرت انگیز واقعہ ہوا۔ جس کو خود ابو دجانہ ان الفاظ میں نقل کرتے ہیں: رَأَیْتُ اِنْسَانًا یَحْمِشُ النَّاسَ حَمْشًا شَدِیْدًا، فَصَمَدْتُ لَه، فَلَمَّا حَمَلْتُ عَلَیْهِ السَّیْفَ وَلُوَّلَ، فَاِذَا امْرَأَةٌ، فَأَکْرَمْتُ سَیْفَ رَسُوْلِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ أَنْ أُضْرِبَ بِه اِمْرَأَةً (سیرت ابن ہشام ، جلد 2، صفحہ 69)۔ یعنی، میں نے ایک آدمی کو دیکھا کہ وہ بری طرح لوگوں کو جنگ پر ابھار رہا تھا۔ میں اس کی طرف لپکا۔ جب میں نے اس پر تلوار اٹھالی تو اس نے کہا: یا ویلاہ (ہائے تباہی)۔ اب میں نے جانا کہ یہ ایک عورت ہے۔ تو میں نے خدا کے رسول کی تلوار کو اس سے پاک رکھا کہ اس سے میں کسی عورت کو قتل کروں۔ اس واقعہ کو ایک صحابی ان الفاظ میں بیان کرتے ہیں: پھر میں نے دیکھا کہ ان کی تلوار ہند بنت عقبہ کے سر پر اٹھ گئی ہے مگر اس کے بعد انہوں نے اپنی تلوار اس سے ہٹالی ( ثُمَّ رَأَیْتُه قَدْ حَمَلَ السَّیْفَ عَلٰی مَفْرِقِ رَأْسِ ھِنْدِ بِنْتِ عُتْبَةَ، ثُمَّ عَدَلَ السَّیْفَ عَنْھَا ) سیرت ابن ہشام ، جلد 2، صفحہ 69۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page