Urdu book · پیغمبرِ انقلاب

پیغمبرِ انقلاب

Urdu book, p. 291

By Maulana Wahiduddin Khan

بیعت کر لی اور پھر تمام مہاجرین نے بیعت کی۔ اس کے بعد انصار نے بھی حضرت ابوبکر کے ہاتھ پر بیعت کر لی۔ تا ہم انصار کے ایک طبقہ کے لیے یہ واقعہ اتنا سخت تھا کہ ایک شخص نے مہاجرین سے کہا کہ تم لوگوں نے سعد بن عبادہ کو قتل کر دیا (قَتَلْتُمْ سَعْدَ بْنَ عُبَادَةَ) طبقات ابن سعد، جلد 2، صفحہ 206۔ انصار نے اسلام کے لیے بے پناہ قربانیاں دی تھیں۔ انہوں نے اسلام کے بے یارومددگار قافلہ کو اس وقت پناہ دی جب کہ انھیں اپنے وطن سے نکلنے پر مجبور کر دیا گیا تھا۔ اس کے باوجود انصار اس فیصلہ پر راضی ہو گئے کہ اقتدار میں ان کا حصہ نہ ہو اور خلیفہ صرف مہاجرین ( قریش) میں سے منتخب کیا جائے۔ اس میں شک نہیں کہ اس کے پیچھے بہت گہری مصلحت تھی۔ قریش سیکڑوں سال سے عرب کے قائد بنے ہوئے تھے۔ ایسی حالت میں اگر کسی غیر قریش کو خلیفہ مقرر کیا جاتا تو اس کے لیے اجتماعی نظم کو سنبھالنا نا ممکن ہو جاتا۔ یہ انصار کی حقیقت پسندی تھی کہ انہوں نے اپنی اس کمی کو جانا اور یک طرفہ فیصلہ پر راضی ہو گئے۔ تاہم یہ حقیقت پسندی کی اتنی نایاب قسم ہے کہ اس کی کوئی دوسری مثال تاریخ میں نہیں ملتی۔ غیر جذباتی فیصلہ کرنے کی طاقت احد کی لڑائی اسلام کی تمام جنگوں میں سب سے زیادہ سخت لڑائی تھی۔ قریش کے تمام جنگی جوان غصہ میں بھرے ہوئے مسلمانوں کے اوپر ٹوٹ پڑے تھے۔ عین اس وقت جب کہ قتل و خون کا معرکہ گرم تھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی تلوار ہاتھ میں لی اور کہا کہ کون اس تلوار کو اس کے حق کے ساتھ لے گا۔ کچھ لوگ آپ کی طرف بڑھے۔ مگر آپ نے انہیں تلوار نہ دی۔ پھر ابو دجانہ سامنے آئے اور پوچھا کہ اے خدا کے رسول اس تلوار کا حق کیا ہے۔ آپ نے فرمایا کہ تم اس سے دشمن کو مارو یہاں تک کہ اس کو ٹیڑھا کر دو ( أَنْ تَشْرِبَ بِهِ الْعَدُوَّ حَتَّى يُنْحَنِي )۔ ابو دجانہ نے کہا کہ میں اس

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page