Urdu book · پیغمبرِ انقلاب

اظہارِ رسالت عہدِ حاضر میں

Urdu book, p. 296

By Maulana Wahiduddin Khan

اظہارِ رسالت عہدِ حاضر میں پیغمبر اسلام کو خصوصی طور پر اظہار کی نسبت دی گئی ہے۔ آپ کے دین کے لیے مقدر کر دیا گیا ہے کہ وہ تمام ادیان پر غالب و سر بلند ہو۔ یہی نسبت غلبہ آپ کی امت کو بھی حاصل ہے۔ پیغمبر اسلام کے لیے اللہ تعالیٰ نے ایسا کیا کہ ڈھائی ہزار سال کے ایک خصوصی منصوبہ کے ذریعہ وہ اسباب فراہم کیے جن کو استعمال کر کے آپ دین خدا کو غالب و ظاہر کر سکیں ۔ اللہ تعالیٰ کا یہی معاملہ آپ کی امت کے ساتھ ہے ۔ چنانچہ پچھلے ہزار سال کے عمل کے نتیجہ میں خدا نے وہ موافق حالات کامل طور پر فراہم کر دیے ہیں جو دورِ جدید میں اسلام کے غلبہ کی بنیاد بن سکتے ہیں ۔ پیغمبر کے امتی اگر ان موافق حالات کو حکمت اور صبر کے ساتھ استعمال کریں تو خدا کا وعدہ نصرت دوبارہ پیغمبر کے امتیوں پر اسی طرح واقعہ بن سکتا ہے جس طرح وہ خود پیغمبر کے اوپر واقعہ بنا تھا۔ امریکہ سے ایک انسائیکلوپیڈیا چھپی ہے جس کا نام ہے: انسان اور اس کے معبود (Man and His Gods)۔ اس کتاب میں مختلف مذاہب پر مقالے ہیں۔ اسلام پر جو مقالہ ہے، اس کے عیسائی مقالہ نگار نے اسلامی انقلاب کے بعد پیدا ہونے والے عظیم نتائج کے بارے میں یہ الفاظ لکھے ہیں— اس کے ظہور نے انسانی تاریخ کے رخ کو بدل دیا: Its advent changed the course of human history. (The Encyclopaedia Britannica (1984), Article on "Man and His Gods", p. 389) یہ ایک مستشرق کی زبان سے اسلامی انقلاب کی پیدا کردہ ان تبدیلیوں کا اعتراف ہے جنہوں نے تاریخ میں ایسے دور رس امکانات کھولے جن کے بعد اسلام کو غیر اسلامی ادیان پر غالب و برتر کرنا اسی طرح آسان ہو گیا ہے جس طرح بارش آ جانے کے بعد کھیت سے فصل اگانا۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page