اظہارِ رسالت عہدِ حاضر میں
Urdu book, p. 297
By Maulana Wahiduddin Khan
پیغیمبر آخر الزماں اور آپ کے ساتھیوں کے ذریعہ جو انقلاب برپا کیا گیا وہ اگرچہ اصلاً تو توحید اور آخرت پر مبنی ایک دینی انقلاب تھا۔ مگر اس نے بہت سے دور رس دنیوی نتائج بھی پیدا کیے ۔ آپ کے لائے ہوئے انقلاب کے دنیوی نتائج میں سب سے اہم وہ نتائج ہیں جنہوں نے قدیم زمانہ کے سماجی اور اجتماعی نظام کو اس طرح بدل دیا کہ وہ حالات ہی ختم ہو گئے جن میں دعوتِ حق کا کام ایک انتہائی مشکل کام بنا ہوا تھا۔ سورہ براءۃ نازل ہونے کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی کو مکہ بھیجا تا کہ وہ اعلان کردیں کہ اس سال کے بعد کسی مشرک کو حج بیت اللہ کی اجازت نہ ہوگی۔ حضرت علی کہتے ہیں کہ میں حج کے اجتماعات میں بلند آواز سے اس کا اعلان کرتا پھرتا تھا، یہاں تک کہ میری آواز بھاری ہو گئی ( فَكُنْتُ أُنَادِي حَتَّى صَحِلَ صَوْتِي) سنن النسائی ، حدیث نمبر 3935۔ مگر آج لاؤڈ اسپیکر وجود میں آنے کے بعد یہ مسئلہ کوئی مسئلہ نہیں ۔ یہ ایک سادہ سی مثال ہے جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ موجودہ زمانہ میں اعلان حق کا کام کتنا زیادہ آسان ہو چکا ہے۔ دین کی دعوت کے دو بڑے دور ہیں ۔ ایک، پیغمبر آخر الزماں کے ظہور سے پہلے۔ دوسرا، پیغمبر آخر الزماں کے ظہور کے بعد ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے خدا کی جو کتابیں آئیں ان کی حفاظت کی ذمہ داری خود ان امتوں پر ڈالی گئی جن کے پاس وہ کتابیں بھیجی گئی تھیں ۔ چنانچہ ان کے بارے میں قرآن میں استخفاظ (نگہبان بنانا) کا لفظ آیا ہے: بِمَا اسْتُحْفِظُوا مِنْ كِتَابِ اللَّهِ وَكَانُوا عَلَيْهِ شُهَدَاءَ (5:44)۔ یعنی، وہ خدا کی کتاب پر نگہبان ٹھہرائے گئے تھے۔ اس کے برعکس ، قرآن کی حفاظت کے بارے میں فرمایا گیا : إِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّكْرَ وَإِنَّا لَهُ لَحَافِظُونَ (15:9) ۔ یعنی ، خدا نے اس کتاب کو اتارا ہے اور وہی اس کی حفاظت کا ذمہ دار ہے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader