اظہارِ رسالت عہدِ حاضر میں
Urdu book, p. 304
By Maulana Wahiduddin Khan
معلوم تاریخ میں یہ پہلا واقعہ ہے کہ خود علم انسانی نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ انسان کا علم محدود ہے اور ہمیشہ محدود رہے گا۔ انسان سائنسی ذرائع سے جب کائنات کی کھوج کرتا ہے تو اس پر یہ حقیقت منکشف ہوتی ہے کہ کائنات اس سے زیادہ پیچیدہ ہے کہ انسان کا محدود ذہن اس کا احاطہ کر سکے۔ سائنس کی یہ دریافت اسلامی نقطہ نظر سے بے حد اہم ہے۔ کیونکہ اس سے رسالت کی اہمیت ثابت ہوتی ہے۔ ایک طرف انسان کا یہ حال ہے کہ وہ حقیقت کو آخری حد تک جان لینا چاہتا ہے۔ دوسری طرف انسان اپنی بناوٹ کے اعتبار سے ایسی محدودیت کا شکار ہے کہ وہ کبھی بھی حقیقت کو آخری حد تک نہیں جان سکتا۔ انسانی زندگی کا یہ خلا واضح طور پر یہ بتاتا ہے کہ اس کو ایک برتر رہنما کی ضرورت ہے۔ اسی برتر رہنما کا دوسرا نام پیغمبر ہے۔ انسانی محدودیت کے بارے میں سائنس کے اقرار نے پیغمبر کی ضرورت کو خالص علمی سطح پر ثابت کر دیا ہے۔ 4۔ قدیم زمانہ میں انسان کو اظہار رائے کی آزادی حاصل نہ تھی۔ اس کی اصل وجہ بادشاہوں اور بڑے انسانوں کے تقدس کا عقیدہ تھا۔ جو لوگ کسی وجہ سے اونچے مقام پر پہنچ جاتے ان کو مقدس سمجھ لیا جاتا۔ ان کی رائے دوسروں سے برتر مانی جاتی۔ ان کو یہ حق مل جاتا کہ جس طرح چاہیں دوسروں کو اپنی مرضی کا پابند بنائیں۔ توحید کے انقلاب نے انسانی بڑائی کا خاتمہ کیا اور یہ اعلان کیا کہ کسی انسان کو دوسرے انسان پر فضیلت نہیں۔ اس کے بعد تاریخ میں ایک نئی فکری لہر چل پڑی۔ یہی وہ فکری لہر ہے جس کی سیاسی تکمیل بالآخر یورپ میں جمہوریت کی صورت میں ہوئی۔ جمہوری انقلاب نے تمام انسانوں کو برابر ٹھہرا دیا۔ ہر شخص کے لیے یہ فکری حق تسلیم کر لیا گیا کہ وہ اپنے ضمیر کے مطابق جو چاہے لکھے اور جو چاہے بولے۔ اس انقلاب نے تاریخ میں پہلی بار اس بات کو ممکن بنا دیا کہ خدا کے دین کی تبلیغ اس طرح کی جائے کہ تبلیغ کرنے والے کے لیے کسی طرح کی پکڑ دھکڑ کا اندیشہ نہ ہو۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader