اظہارِ رسالت عہدِ حاضر میں
Urdu book, p. 303
By Maulana Wahiduddin Khan
قدیم فلسفہ کا آخری نشانہ ہمیشہ سے آخری سچائی کی تلاش رہا ہے۔ مگر یہ ایک حقیقت ہے کہ تقریباً پانچ ہزار سال کی شان دار تاریخ کے باوجود فلسفہ اپنے نشانہ تک پہنچنے میں مکمل طور پر نا کام رہا۔ اس کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ فلسفہ انسان کی محدودیتوں (limitation) کا ادراک نہ کرسکا۔ وہ آخری سچائی تک پہنچنے کے لیے ساری کوششیں صرف کرتا رہا۔ جب کہ انسان اپنی محدود صلاحیتوں کی وجہ سے بطور خود آخری سچائی تک پہنچ ہی نہیں سکتا تھا۔ اس فلسفیانہ طرزِ فکر کی وجہ سے ہزاروں برس تک انسان یہ چاہتا رہا کہ دین توحید کی بنیاد جن اساسی عقائد پر قائم ہے اس کو انسان کے لیے مکمل طور پر معلوم اور مشاہد بنا دیا جائے۔ مگر یہ تمام غیبی حقیقتیں تھیں اور انسان اپنی موجودہ صلاحیتوں کے ساتھ ان غیبی حقیقتوں کا کامل ادراک نہیں کر سکتا۔ جدید سائنس کا، دینی نقطۂ نظر سے، سب سے بڑا کارنامہ یہ ہے کہ اس نے اس مفروضہ کو ڈھا دیا۔ اس نے آخری طور پر یہ ثابت کر دیا کہ انسان کی صلاحیتیں محدود ہیں ۔ وہ اپنی محدودیت کی وجہ سے حقیقت کا کلی ادراک نہیں کر سکتا۔ قدیم فلسفہ کی پیدا کردہ ذہنی زمین اب ساری دنیا میں دفاعی حیثیت کے مقام پر جا چکی ہے اور اب سائنس کی دریافت کردہ ذہنی زمین کو علمی دنیا میں غالب مقام حاصل ہے۔ ذہن کی اس تبدیلی نے دین توحید کے لیے راستہ صاف کر دیا ہے۔ اب اس نقطۂ نظر کو، کم از کم بالواسطہ طور پر، مکمل علمی تائید حاصل ہے کہ انسان کے لیے اس کے سوا چارہ نہیں کہ حقیقتِ اعلیٰ کو پانے کے لیے وہ پیغمبر کی اطلاع کا اعتبار کرے۔ اب یہ مطالبہ سراسر غیر علمی مطالبہ بن چکا ہے کہ خدا اور روحی اور آخرت کو ہماری آنکھوں سے ہمیں دکھاؤ، اس کے بعد ہی ہم اس پر ایمان لائیں گے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader