Urdu book · پیغمبرِ انقلاب

اظہارِ رسالت عہدِ حاضر میں

Urdu book, p. 306

By Maulana Wahiduddin Khan

سجدے میں گر گئے اور اللہ تعالیٰ سے نصرت کی دعائیں مانگنے لگے۔ اس نازک لمحہ میں آپ کی زبان سے جو کلمات نکلے ان میں سے ایک جملہ یہ تھا: اَللّٰهُمَّ اِنْ تُهْلِکْ هٰذِهِ الْعِصَابَةَ لَا تُعْبَدْ بَعْدَهَا فِی الْأَرْضِ (سیرت ابن کثیر، جلد 2، صفحہ 411)۔ خدایا، اگر یہ گروہ ہلاک ہو گیا تو اس کے بعد زمین پر تیری عبادت نہ ہوگی۔ یہ کوئی مبالغہ نہ تھا۔ حقیقت یہ ہے کہ وہ تین سو تیرہ روحیں جو بے سروسامانی کے باوجود بدر کے معرکہ میں کھڑی ہوئی تھیں ۔ یہ محض عام قسم کے تین سو تیرہ لوگ نہ تھے۔ یہ عصابہ دراصل وہ گروہ تھا جس پر ڈھائی ہزار سالہ تاریخ منتہی ہوئی تھی۔ اسی طرح آج دوبارہ ایک نیا عصابہ (گروہ) درکار ہے جس پر پچھلی ہزار سالہ تاریخ منتہی ہوئی ہو۔ جو اپنے شعور کے اعتبار سے پچھلی ہزار سالہ تاریخ کا وارث ہو۔ جو اپنے کردار کے اعتبار سے ان امکانات کو واقعہ بنانے کا اٹل ارادہ اپنے اندر لیے ہوئے ہو، جو سنجیدہ فیصلے کی اس حد پر پہنچا ہوا ہو جہاں پہنچ کر آدمی اس قابل ہو جاتا ہے کہ وہ اپنے مقصد سے پوری طرح وابستہ رہے، کوئی بھی خارجی واقعہ اس کو اس کے نشانہ سے ہٹانے والا ثابت نہ ہو۔ یہی وہ لوگ ہیں جو خدا کے کاگ (cog) میں اپنا کاگ (cog) ملائیں گے۔ اور بالآخر یقینی کامیابی کی منزل تک پہنچیں گے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page