Urdu book · پیغمبرِ انقلاب

ہیروؤں کی نرسری

Urdu book, p. 307

By Maulana Wahiduddin Khan

ہیروز کی نرسری سیرت کی کتابوں میں آتا ہے کہ غزوۂ بدر کے موقع پر 313 بظاہر کمزور اہل ایمان پر ایک ہزار طاقتور اہل کفر ٹوٹ پڑے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم شدت احساس کے تحت سجدہ میں گر پڑے۔ اس وقت آپ میدان جنگ کے کنارے ایک عریش (چھپر) کے اندر تھے۔ آپ اللہ تعالیٰ سے نصرت وحمایت کی دعائیں مانگ رہے تھے۔ اس نازک لمحہ میں آپ کی زبان سے جو کلمات نکلے، ان میں سے ایک جملہ یہ تھا: اَللّٰهُمَّ إِنْ تُهْلِكَ هَذِهِ الْعِصَابَةَ لَا تُعْبَدْ بَعْدَهَا فِي الْأَرْضِ (السیرۃ النبویہ لابن کثیر، جلد 2، صفحہ 411)۔ یعنی، خدایا، یہ گروہ اگر آج ہلاک ہو گیا تو اس کے بعد زمین پر تیری عبادت نہ ہوگی۔ یہ کلمہ کوئی مبالغہ کا کلمہ نہ تھا، بلکہ ایک واقعہ کا سادہ اظہار تھا۔ حقیقت یہ ہے کہ وہ تین سو تیرہ روحیں جو بدر کے میدان میں حق کے دشمنوں کا مقابلہ کرنے کے لیے نکلی تھیں، وہ محض عام قسم کے تین سو تیرہ لوگ نہ تھے۔ یہ العصا بہ دراصل وہ گروہ تھا جس پر ڈھائی ہزار سالہ تاریخ منتہی ہوئی تھی۔ ڈھائی ہزار سال کے دوران مخصوص حالات کے اندر ایک زندہ قوم تیار کی گئی۔ پھر اس زندہ قوم سے چھانٹ کر ایک گروہ نکالا گیا جو قرآن کے الفاظ میں ”خیر امت‘‘ تھا۔ یہی وہ تاریخی گروہ تھا جو اس وقت خونخوار دشمنوں کی تلواروں کے سامنے کھڑا ہوا تھا۔ موجودہ دنیا امتحان کی دنیا ہے۔ یہاں جو واقعات پیش آتے ہیں وہ اسباب وعلل کے پردہ میں پیش آتے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے اگر یہ العصا بہ ہلاک ہو جائے تو موجودہ دنیا میں خدا کی سنت کے مطابق دوبارہ نئے’’ڈھائی ہزار سال‘‘ درکار ہوں گے جن کی گردشیں از سر نو جاری ہوں اور اسباب کے سلسلوں سے گزر کر بالآخر وہ افراد تیار

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page