اسباقِ سیرت
Urdu book, p. 82
By Maulana Wahiduddin Khan
کے لیے تیار ہوں ۔ اسی طرح کوئی حقیقی اجتماعیت صرف اس وقت قائم ہوتی ہے جب کہ کچھ لوگ اس کے لیے تیار ہوں کہ وہ اپنی رایوں کو اپنے سینہ میں چھپا لیں گے اور اختلاف رائے کے باوجود اتحاد عمل کا ثبوت دیں گے۔ اس قربانی کے بغیر کسی انسانی اجتماعیت کا وجود میں آنا اتنا ہی ناممکن ہے جتنا اینٹوں کے بنیاد میں دفن ہوئے بغیر عمارت کا وجود میں آنا۔ —8— 6 هے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ میں خواب دیکھا کہ آپ اپنے اصحاب کے ساتھ عمرہ کر رہے ہیں۔ صحابہ کو آپ نے یہ خواب بتایا تو وہ بہت خوش ہوئے کہ چھ سال کے بعد اب مکہ جانے اور حرم کی زیارت کرنے کا موقع ملے گا۔ اسی خواب کے مطابق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ کے لیے روانہ ہوئے۔ چودہ سواصحاب بھی آپ کے ساتھ ہو گئے۔ غدیر اشتطاط کے مقام پر پہنچ کر معلوم ہوا کہ قریش آپ کے سفر کی خبر پا کر سرگرم ہو گئے ہیں۔ انہوں نے ایک لشکر جمع کیا ہے اور عہد کیا ہے کہ آپ کو مکہ میں داخل نہ ہونے دیں گے۔ کعبہ کی زیارت سے کسی کو روکنا عرب روایات کے بالکل خلاف تھا۔ مزید یہ کہ آپ اشارۂ خداوندی کے تحت یہ سفر کر رہے تھے۔ مگر اس کے باوجود آپ اس خبر کو سن کر مشتعل نہیں ہوئے۔ آپ کے جاسوس نے بتایا کہ خالد بن ولید دو سو سواروں کو لے کر مقام غمیم تک پہنچ گئے ہیں تا کہ آپ کا راستہ روکیں۔ یہ خبر سن کر آپ نے یہ کیا کہ معروف راستہ کو چھوڑ دیا اور ایک غیر معروف اور دشوار گزار راستہ سے چل کر حدیبیہ تک پہنچ گئے تا کہ خالد سے ٹکراؤ کی نوبت نہ آئے۔ اس واقعہ کو ابن ہشام نے جن الفاظ میں نقل کیا ہے وہ یہ ہیں : قَالَ مَنْ رَجُلٌ يُخَرِّجُ بِنَا عَلَى طَرِيقٍ غَيْرِ طَرِيقِهِمُ الَّتِي هُمْ بِهَا؟... قَالَ رَجُلٌ أَنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ : فَسَلَكَ بِهِمْ طَرِيقًا وَعُرًا أَجْرَلَ بَيْنَ شِعَابٍ، فَلَمَّا خَرَجُوا مِنْهُ، وَقَدْ شَقَّ ذَلِكَ عَلَى الْمُسْلِمِينَ وَأَفْضَوْا إِلَى أَرْضِ سَهْلَةٍ عِنْدَ مُنْقَطَعِ

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader